Times of Pakistan

’عدالت کی جانب سے جاری خودکشی کا نوٹ جعلی ہے‘: جیفری ایپسٹین کے بھائی کا دعویٰ

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

وفاقی عدالت نے گزشتہ ہفتے جاری کی گئی ایک دستاویز کو جیفری ایپسٹین کا ہاتھ سے لکھا نوٹ قرار دیا تھا۔

امریکی وفاقی عدالت کی جانب سے بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کا مبینہ ’خودکشی نوٹ‘ جاری کیے جانے کے بعد نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ جیفری ایپسٹین کے بھائی مارک ایپسٹین نے اس دستاویز کو جعلی قرار دے دیا ہے۔ اس انکشاف نے ایپسٹین کی جیل میں موت سے جڑے سوالات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔

برطانوی اخبار دی انڈیپنڈیٹ کے مطابق بدنام امریکی سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے مقدمات میں گرفتار جیفری ایپسٹین کے بھائی مارک ایپسٹین نے عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے مبینہ خودکشی نوٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحریر ان کے بھائی کے اندازِ بیان سے مطابقت نہیں رکھتی۔

وفاقی عدالت نے بدھ کے روز ایک مبینہ نوٹ جاری کیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ جیفری ایپسٹین نے 2019 میں جیل میں اپنی موت سے تقریباً ایک ماہ قبل تحریر کیا تھا۔

یہ مبینہ نوٹ ایپسٹین کے ساتھ قید رہنے والے قیدی نکولس ٹارٹاگلیونی نے جولائی 2019 میں ایک کتاب کے اندر سے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ایپسٹین اپنے سیل میں بے ہوش پائے گئے تھے، جس کے ایک ماہ بعد اگست میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

یہ نوٹ ابتدا میں عدالتی ریکارڈ میں خفیہ رکھا گیا تھا، لیکن بعد میں ٹارٹاگلیونی نے اس کی تفصیلات ’نیویارک ٹائمز‘ اور صحافی جیسیکا ریڈ کراس کو بتائیں، جس کے بعد اخبار نے دستاویز کو عوامی کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

جیفری ایپسٹین نے دورانِ قید یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ٹارٹاگلیونی نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی، تاہم بعد میں دوسری کوٹھڑی میں منتقل کیے جانے کے بعد انہوں نے یہ دعویٰ دوبارہ نہیں دہرایا تھا۔

جیفری ایپسٹین کے بھائی نے امریکی جریدے ’نیشنل انکوائرر‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ یہ نوٹ ان کے بھائی نے ہی لکھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں جیف کو اچھی طرح سے جانتا ہوں، اگر وہ خودکشی کرنے والا ہوتا اور کوئی نوٹ لکھتا تو وہ کسی خاص شخص کے نام ہوتا، نہ کہ محض ایک عمومی الوداعی بیان‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس نوٹ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

عدالت کی جانب سے جاری کردہ نوٹ کے مندرجات کے مطابق اس پر لکھا تھا کہ ’مہینوں تحقیقات کی گئیں لیکن کچھ نہیں ملا۔ اپنے آخری وقت کا انتخاب خود کرنا اعزاز کی بات ہے۔‘

نوٹ کے اختتام پر درج ہے کہ ’رونے دھونے کا کیا فائدہ، اس میں کوئی مزہ نہیں، یہ سب اس قابل نہیں‘۔

اگرچہ امریکی حکام مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ جیفری ایپسٹین نے خودکشی کی، تاہم ان کے بھائی مارک ایپسٹین اس دعوے کو طویل عرصے سے مسترد کرتے رہے ہیں۔ مارک ایپسٹین کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ایک رپورٹ پیش کریں گے جو ثابت کر دے گی کہ ان کی موت کی وجہ خودکشی نہیں تھی۔

جیفری ایپسٹین کی موت کے تقریباً سات سال بعد بھی ان کے جنسی جرائم کے نیٹ ورک سے جڑا اسکینڈل بدستور خبروں میں ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے اب تک تقریباً 35 لاکھ صفحات پر مشتمل ایپسٹین فائلز جاری کی ہیں، جن میں کئی طاقتور شخصیات کے نام اور ان کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی تفصیلات موجود ہیں۔

کمیٹی نے بِل کلنٹن، ہلیری کلنٹن اور بل گیٹس جیسے بڑے ناموں کو بھی تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔

Read Entire Article