ARTICLE AD BOX
فرانسیسی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق تحقیقات کا آغاز فرانسیسی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے
پیرس: فرانس نے غزہ جانے والے فلوٹیلا قافلے کے سماجی کارکنوں کے ساتھ مبینہ اسرائیلی بدسلوکی کے معاملے پر جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جسے اس معاملے پر ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق تحقیقات کا آغاز فرانسیسی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا قافلے میں شامل کارکنوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی ویڈیوز اور رپورٹس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب آئرلینڈ نے بھی اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزیلیل سموٹریچ کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ آئرش حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے فلوٹیلا قافلے کے ساتھ ان وزرا کے رویے پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ آئرلینڈ کے وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ فلوٹیلا قافلے کے شرکا کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک ناقابل قبول ہے اور ایسے اقدامات بین الاقوامی انسانی اصولوں کے منافی ہیں۔ ادھر البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں بھی ہزاروں افراد نے ایک امریکی اسرائیلی کمپنی کے مجوزہ رہائشی منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے نعرے لگائے کہ ’البانیہ برائے فروخت نہیں‘۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے وابستہ کمپنی کی سرمایہ کاری سے متعلق عوامی خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کے تمام پہلوؤں کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ جنگ اور فلوٹیلا واقعے کے بعد اسرائیل کو مختلف ممالک میں بڑھتے ہوئے سیاسی، قانونی اور سفارتی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ یورپی ممالک میں اس حوالے سے بحث مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔
.png)
11 hours ago
1






English (US) ·