ARTICLE AD BOX
.
ہر فنانس بل کو اصلاحات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حکومتیں معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور ٹیکس نظام میں انصاف لانے کے دعوے کرتی ہیں۔ تاہم، کسی بھی فنانس بل کی اصل کسوٹی اس میں شامل ترامیم کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ ایسی پیداواری معیشت کے قیام میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو پائیدار اور مستقل محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اگر اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو فنانس بل 2026 ایک زیادہ بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا پاکستان ریاستی اخراجات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور معیشت کے محدود اور دستاویزی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتا رہے گا، جبکہ اس کی بنیادی سیاسی و معاشی ساخت (پولیٹیکل اکانومی) تقریباً جوں کی توں برقرار رہے؟
فنانس بل 2026 پر ہونے والی بحث زیادہ تر ٹیکس کی شرحوں، تنخواہ دار طبقے کو دی جانے والی رعایتوں، بعض شقوں کے خاتمے، ٹیرف کی معقول تشکیل ( ٹیرف ریشنالائزیشن) اور نئے نفاذی و نگرانی کے آلات کے تعارف تک محدود رہی ہے۔ یہ تمام امور یقیناً اہم ہیں، لیکن یہ مالیاتی نظام کے اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے۔ کیا صرف یہی اقدامات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر کردہ 15.264 کھرب روپے کے پُرامید محصولات کے ہدف کے حصول کے قابل بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک وسیع تر تاریخی تناظر اختیار کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کا ٹیکس مسئلہ کبھی محض انتظامی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور ساختی مسئلہ ہے۔ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتیں معاشی طاقت کی غیر مساوی تقسیم کو چیلنج کیے بغیر محصولات بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً ٹیکس کا ایسا نظام وجود میں آیا ہے جس میں معیشت کے دستاویزی شعبے غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبے یا تو کم ٹیکس دیتے ہیں یا مؤثر نگرانی سے تقریباً مکمل طور پر بچ نکلتے ہیں۔
اس کا نتیجہ ایک ایسے ٹیکس نظام کی صورت میں نکلا ہے جو ہمہ گیری کے بجائے چند شعبوں پر ارتکاز کا شکار ہے۔ بینک، کارپوریشنز، تنخواہ دار افراد، برآمد کنندگان، صنعت کار، درآمد کنندگان اور رسمی خدمات فراہم کرنے والے ادارے آج بھی ٹیکس بوجھ کا بڑا حصہ برداشت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب خردہ و تھوک تجارت کے وسیع شعبے، جائیداد کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے قیاسی منافع (رئیل اسٹیٹ اسپیکیولیشن)، زرعی رینٹ اور غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ بجٹ 2026-27 کی بنیاد بننے والے مفروضات کا جائزہ لیتے وقت یہ عدم توازن خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان میں محصولات میں اضافے کے چار بڑے عوامل رہے ہیں: معاشی نمو، افراطِ زر، درآمدات میں توسیع اور نئے ٹیکس اقدامات۔ 2002 سے 2007 کے درمیان تیز رفتار معاشی نمو کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر اس وجہ سے ہوا کہ معاشی سرگرمیاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ بینکاری، ٹیلی کمیونی کیشن، تعمیرات اور صارفین کی منڈیوں نے قابلِ ٹیکس آمدنی اور لین دین پیدا کیا۔ اس طرح محصولات میں اضافہ معاشی توسیع کا فطری نتیجہ تھا۔
بعد کے برسوں میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔ رفتہ رفتہ محصولات میں اضافہ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی (پریزیمپٹیو) ٹیکسیشن، پٹرولیم لیویز، کم از کم ٹیکس اور انتظامی نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جانے لگا۔ نئی معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ریاست نے پہلے سے موجود معاشی سرگرمیوں سے مزید وصولیاں کرنا شروع کر دیں۔ فنانس بل 2026 بھی اسی رجحان کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔
اس بل کی کئی اہم شقیں دراصل ٹیکس پالیسی کے بجائے محصولات کے انتظام اور نفاذ سے متعلق ہیں۔ بغیر براہِ راست انسانی مداخلت کے آڈٹ ( فیس لیس آڈٹس)، خودکار اسیسمنٹ، الگورتھم کی بنیاد پر خطرات کی درجہ بندی (الگورتھمک رسک پروفائلنگ)، الیکٹرانک انوائسنگ، ڈیجیٹل نگرانی، بینکنگ ڈیٹا کا انضمام، تیسرے فریق کی معلوماتی نظام اور خودکار جانچ پڑتال (آٹومیٹڈ اسکروٹنی) جیسے اقدامات کا مقصد نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ اقدامات مختصر مدت میں محصولات بڑھا سکتے ہیں اور حکومت کو بعض سہ ماہی اہداف حاصل کرنے میں مدد بھی دے سکتے ہیں، لیکن نفاذ (انفورسمنٹ) کو اصلاحات (ریفارمز) کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔
دنیا کا کوئی بھی ملک صرف نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ) کے ذریعے طویل المدتی اور پائیدار محصولات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ٹیکس وصولیوں میں مستقل اضافہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، منافع بخشی اور ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے پھیلاؤ سے جنم لیتا ہے۔ ٹیکس حکام معاشی سرگرمیوں پر ٹیکس تو عائد کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود معاشی سرگرمیاں پیدا نہیں کر سکتے۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ فرق خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت ایف بی آر سے 15.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کرنے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ معاشی نمو محدود ہے، نجی سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے، صنعتیں توانائی کے بلند اخراجات سے نبرد آزما ہیں اور کاروباری طبقہ غیر معمولی ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ تضاد بالکل واضح ہے: ریاست ایک ایسی معیشت سے تاریخی سطح کی ٹیکس وصولیوں کی امید رکھتی ہے جو خود مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں میں جکڑی ہوئی ہے۔
فنانس بل 2026 اس تضاد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاحات کی زبان اب قانون سازی سے نکل کر الگورتھمز تک پہنچ چکی ہے۔ بغیر براہِ راست رابطے کے فیصلے ( فیس لیس ایڈجوڈیکیشن)، خودکار خطرہ تجزیہ (آٹومیٹڈ رسک اسیسمنٹ) اور ڈیجیٹل تعمیل (ڈیجیٹل کمپلائنس) محصولات کے انتظام کے پسندیدہ ذرائع بن چکے ہیں۔ بلاشبہ جدید ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، لیکن یہ قانونی جواز (لیجیٹی میسی) اور اعتماد کا متبادل نہیں بن سکتی۔
پاکستان بظاہر بھارت کے فیس لیس اسیسمنٹ اور ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ کے ماڈل سے متاثر نظر آتا ہے۔ تاہم بھارت نے ایسے اصلاحی اقدامات اس وقت متعارف کرائے جب معاشی سرگرمیوں کی وسیع ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس دہندگان کی شناختی نظاموں کا انضمام، بینکاری خدمات کی وسیع رسائی اور مضبوط معلوماتی نیٹ ورکس پہلے سے موجود تھے۔ اس کے باوجود بھارتی تجربے پر طریقۂ کار کی انصاف پسندی، الگورتھمز کی غیر شفافیت اور مؤثر سماعت کے حق سے محرومی کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی۔ پاکستان ان بنیادی ڈھانچوں کی تکمیل سے پہلے ہی اس ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
فیس لیس نظام یقیناً ٹیکس دہندگان اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم کر سکتا ہے، لیکن یہ خود بخود من مانی فیصلوں کا خاتمہ نہیں کرتا۔
ایک غیر شفاف الگورتھم بھی اتنا ہی خوفزدہ کرنے والا ہو سکتا ہے جتنا کہ صوابدیدی اختیارات رکھنے والا کوئی افسر۔ اگر بنیادی ڈیٹا ناقابلِ اعتماد ہو تو ڈیجیٹل نوٹس ہراسانی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح خودکار ڈیٹا عدم مطابقت (مس میچ) کی نشاندہی، مؤثر اپیل کے حقوق اور شفاف طریقۂ کار کے بغیر، خودکار جبر ( آٹومیٹڈ کوآرشن) کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اصل اور زیادہ گہرا مسئلہ کہیں اور ہے۔ فنانس بل 2026 بدستور اس مفروضے پر قائم ہے کہ نگرانی (سرویلنس) کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دستاویزی معیشت صرف ایک تکنیکی یا ڈیجیٹل عمل نہیں، بلکہ شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک مالیاتی و سماجی تعلق کا نام ہے۔
شہری اس وقت رضاکارانہ طور پر دستاویزی نظام کا حصہ بنتے ہیں جب انہیں ٹیکس نظام منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور عوامی خدمات سے جڑا ہوا محسوس ہو۔ اس کے برعکس، جب ریاست ضرورت سے زیادہ جابرانہ اور نگرانی پر مبنی اقدامات پر انحصار کرتی ہے تو عدم اعتماد بڑھتا ہے اور معیشت مزید غیر رسمی (انفارمل) شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی ٹیکسوں (مفروضے یا تخمینے کی بنیاد پرٹیکس) اور معلوماتی رپورٹنگ کی مسلسل توسیع کے باوجود ٹیکس نیٹ متناسب انداز میں وسیع نہیں ہو سکا۔
یوں نظام پہلے سے زیادہ مداخلت پسند (انٹروسیو) تو ہو گیا ہے، مگر نمایاں طور پر زیادہ شمولیتی (انکلوسیو) نہیں بن سکا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فنانس بل ایک بڑے سیاسی و معاشی مسئلے سے جڑ جاتا ہے۔ پاکستان بتدریج اس مالیاتی ڈھانچے سے مشابہت اختیار کرتا جا رہا ہے جسے ماہرینِ معاشیات ”رینٹیئر مالیاتی نظام“ (رینٹیئر فسکل اسٹرکچر) قرار دیتے ہیں۔ ایسے نظام میں محصولات کا انحصار پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے معیشت کے مخصوص اور محدود شعبوں سے زیادہ سے زیادہ وسائل نکالنے پر ہوتا ہے۔
پٹرولیم لیوی، ودہولڈنگ ٹیکسیشن اور انتظامی نفاذی اقدامات پر بڑھتا ہوا انحصار اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں مالیاتی پالیسی پیداوار اور معاشی توسیع سے کٹ جاتی ہے اور اس کا انحصار ایسے طریقہ کار پر بڑھ جاتا ہے جو نئے ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان سے مزید وسائل منتقل کرنے پر مبنی ہوتے ہیں۔
قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ اس رجحان کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔ وفاقی محصولات کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی ترجیحات پر غور کرنے سے پہلے ہی مختلف مالی ذمہ داریوں کے لیے مختص ہو چکا ہوتا ہے۔ نتیجتاً محصولات جمع کرنے والے اداروں پر ہر صورت زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرنے کا دباؤ برقرار رہتا ہے، خواہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات کچھ بھی ہوں۔
ایسے ماحول میں ٹیکس انتظامیہ بتدریج معاشی ترقی کے فروغ کے بجائے ریاست کی مالی بقا (فسکل سروائیو) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور جب صورتحال یہ ہو تو ہر فنانس بل ترقی اور معاشی نمو کا خاکہ بننے کے بجائے محض زیادہ سے زیادہ محصولات بٹورنے کی مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کو دی گئی ٹیکس رعایت بھی اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ اگرچہ ٹیکس کی شرحوں میں کمی خوش آئند اقدام ہے، لیکن تنخواہ دار افراد کبھی بھی پاکستان کے مالیاتی عدم توازن کی بنیادی وجہ نہیں رہے۔ درحقیقت وہ ٹیکس دہندگان کا شاید سب سے زیادہ قانون پر عمل کرنے والا اور دستاویزی طبقہ ہیں۔ یہ رعایت وقتی طور پر ان کی ناراضی کم کر سکتی ہے، مگر ٹیکس بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم سے جڑی بنیادی ساختی ناانصافیوں کا حل پیش نہیں کرتی۔
اسی طرح سیکشن 7E کے مجوزہ خاتمے نے ایک ایسی متنازع شق کو ختم کیا ہے جس کی آئینی حیثیت ابتدا ہی سے مشکوک سمجھی جاتی رہی تھی۔ تاہم اس شق کی واپسی ٹیکس پالیسی سازی کی ایک مستقل کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔
مختلف حکومتیں قلیل مدتی محصولات کے حصول کی خاطر قانونی طور پر متنازع اور کمزور بنیادوں والے اقدامات متعارف کراتی ہیں، پھر برسوں کی عدالتی کارروائیوں اور غیر یقینی صورتحال کے بعد انہیں واپس لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کسی بھی معمولی ٹیکس شرح سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔
شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔ یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا، اور نہ ہی ایک مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور کئی برسوں پر محیط ٹیکس پالیسی فریم ورک تشکیل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ان وسیع تر طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں سے بھی صرفِ نظر کرتا ہے جو سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
یہ تمام کوتاہیاں اس لیے اہم ہیں کہ محصولات کے اہداف کو معیشت کی مجموعی حالت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ٹیکس انتظامیہ صرف اسی دولت پر ٹیکس وصول کر سکتی ہے جو معیشت پیدا کرتی ہے۔ اگر معاشی نمو کمزور رہے، سرمایہ کاری سست روی کا شکار رہے، اور کاروباری ادارے بلند توانائی لاگت اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہیں، تو محض انتظامی اور نفاذی اقدامات بالآخر اپنی حدوں تک پہنچ جائیں گے۔
پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ ایف بی آر سخت نفاذی اقدامات، افراطِ زر کے اثرات اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کے مزید پھیلاؤ کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کر لے۔ اس صورت میں محصولات کا ہدف تو پورا ہو سکتا ہے، لیکن معیشت کی بنیادی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہیں گی۔
دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں اس حد تک سست پڑ جائیں کہ محصولات سے متعلق تمام مفروضے غیر حقیقی ثابت ہوں۔ ایسی صورت میں منی بجٹس، اضافی ٹیکسوں اور مزید سخت نفاذی اقدامات کا وہی پرانا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کا پاکستان ماضی میں بارہا تجربہ کر چکا ہے۔
تیسرا اور اس وقت سب سے کم زیرِ بحث آنے والا منظرنامہ حقیقی ساختی اصلاحات ( اسٹرکچرل ریفارم) کا ہے۔ اس کے لیے سیاسی طور پر مشکل مگر ناگزیر اقدامات درکار ہوں گے، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، وفاقی اور صوبائی ٹیکسیشن میں ہم آہنگی پیدا کرنا، تعمیل کے اخراجات کم کرنا، ٹیکس دہندگان کے حقوق کو مضبوط بنانا، ٹیکس قوانین کو سادہ اور قابلِ فہم بنانا اور ٹیکسوں کو عوامی خدمات کی فراہمی سے زیادہ واضح طور پر منسلک کرنا شامل ہے۔
پائیدار مالیاتی استحکام صرف تیسرے راستے سے حاصل ہو سکتا ہے۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ فنانس بل 2026 میں اتنی ترامیم موجود ہیں یا نہیں جو ایف بی آر کو 15 کھرب روپے سے زائد محصولات جمع کرنے میں مدد دے سکیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک نسبتاً چھوٹے دستاویزی شعبے سے مسلسل زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کی پالیسی جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ وہ ان بنیادی اصلاحات کو مؤخر کرتا رہے جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں اور نئے ٹیکس دہندگان پیدا کریں؟
فنانس بل 2026 ایک ایسے محصولات کے انتظامی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ ابھی تک معاشی نمو اور ترقی کے تقاضوں کے بارے میں اسی درجے کی فہم و بصیرت کی عکاسی نہیں کرتا۔
جب تک اس عدم توازن کو دور نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس بل شاید زیادہ محصولات اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائے، مگر وہ اس بنیادی مالیاتی بحران کا حل فراہم نہیں کر سکے گا جو ریاست کو بار بار ایسی غیر معمولی وصولیوں پر مجبور کرتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر 19 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
.png)
1 hour ago
2






English (US) ·