ARTICLE AD BOX
اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان کھیلے گئے فیصلہ کن مقابلے کو تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ امریکیوں نے دیکھا۔
شائع 22 جولائ 2026 11:01pm
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل نے امریکا میں ٹی وی ناظرین کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان کھیلے گئے فیصلہ کن مقابلے کو تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ امریکیوں نے دیکھا، جو امریکا میں فٹبال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے اور یہ 2022 کے ورلڈ کپ فائنل کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق گزشتہ اتوار کو امریکا کی ریاست نیو جرسی میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں دونوں ٹیمیں مقررہ وقت تک کوئی گول نہ کرسکیں تاہم اسپین نے اضافی وقت کے 106ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کرکے ارجنٹینا کو ایک کے مقابلے میں صفر سے شکست دے کر عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
براڈ کاسٹرز کے مطابق فاکس کے انگریزی نشریاتی چینل پر 3 کروڑ 89 لاکھ افراد نے میچ دیکھا جب کہ کومکاسٹ کے ہسپانوی زبان کے چینل ٹیلی مونڈو اور اس کے اسٹریمنگ پلیٹ فارم پیکاک پر مزید 2 کروڑ 39 لاکھ ناظرین نے فائنل دیکھا۔
اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ امریکیوں نے یہ فائنل میچ دیکھا، جو قطر میں ہونے والے 2022 کے ورلڈ کپ فائنل کے دوران امریکا میں میچ دیکھنے والے 2 کروڑ 23 لاکھ افراد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ورلڈ کپ کی نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے لیے تقریباً 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جب کہ کومکاسٹ نے تقریباً 60 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے۔ ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ کی نشریات دونوں براڈکاسٹرز کے لیے بھی انتہائی کامیاب ثابت ہوئیں۔
ٹورنامنٹ کے دوران کئی ناک آؤٹ مرحلے کے کئی مقابلوں نے امریکا کی دیگر بڑی کھیلوں کی چیمپیئن شپ کے مقابلوں کو بھی ناظرین کی تعداد میں پیچھے چھوڑ دیا۔
انگلینڈ اور میکسیکو کے درمیان راؤنڈ آف 16 (پری کوارٹر فائنل) کے میچ کو تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ افراد نے دیکھا، جو میجر لیگ بیس بال ورلڈ سیریز کے فیصلہ کن میچ کے تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ اور این بی اے فائنلز کے 5 ویں میچ کے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ ناظرین سے کہیں زیادہ ہے۔
اگرچہ یہ تعداد اب بھی سپر باؤل ایل ایکس کے تقریباً 12 کروڑ 60 لاکھ ناظرین سے کم رہی تاہم اسے امریکا میں فٹبال کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں روایتی طور پر امریکن فٹبال، باسکٹ بال اور بیس بال زیادہ مقبول سمجھے جاتے ہیں۔
امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں پہلی بار منعقد ہونے والے 48 ٹیموں پر مشتمل اس ورلڈ کپ کو امریکی ناظرین کے لیے پرائم ٹائم اوقات میں شیڈول کیے جانے کا بھی فائدہ ملا۔
اس کے علاوہ لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ شرکت نے بھی شائقین کی دلچسپی میں اضافہ کیا، اس سے قبل امریکا نے 1994 میں ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی۔
فاکس کے اسٹریمنگ پلیٹ فارم فاکس ون نے جون کے دوران 28 لاکھ نئے صارفین حاصل کیے، جو اس کے آغاز کے بعد کسی بھی مہینے کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ہسپانوی زبان کے چینل ٹیلی مونڈو کو بھی امریکا میں ہسپانوی نژاد ناظرین کی بڑی تعداد کی وجہ سے غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی۔
فٹبال مارکیٹنگ کمپنی گاٹ ڈیجیٹل کے منیجنگ پارٹنر وینسینتے ناوارو کے مطابق دونوں براڈکاسٹرز کی ریٹنگز ان کے اپنے اندازوں سے کہیں زیادہ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ناک آؤٹ مرحلے کے دوران 30 سیکنڈ کے ایک اشتہار کی قیمت 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2018 کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
اس دوران پیپسی، کوکا کولا، ہوم ڈیپو اور اینہائزر-بش سمیت کئی بڑی کمپنیوں نے اشتہارات دیے، اس کے مقابلے میں سپر باؤل کے دوران 30 سیکنڈ کے ایک اشتہار کی قیمت عموماً 80 لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔
ٹورنامنٹ کے دوران متعارف کرائے گئے ہائیڈریشن یعنی واٹر بریکس بھی براڈکاسٹرز کے لیے اضافی آمدنی کا باعث بنے، ان وقفوں کے دوران مزید اشتہارات نشر کیے گئے، جس سے نشریاتی اداروں کو اضافی مالی فائدہ حاصل ہوا۔
ہالی ووڈ رپورٹر کی جون میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صرف واٹربریکس کے اشتہارات سے فاکس کو کم از کم 25 کروڑ ڈالر کی آمدنی متوقع تھی، جب کہ ٹیلی مونڈو نے ان وقفوں کے دوران اشتہارات نشر نہیں کیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فارمیٹ آئندہ بھی برقرار رہا تو ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق کی تجارتی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ورلڈ کپ میں شامل کیے گئے بعض امریکی طرز کے عناصر، جیسے سپر باؤل کی طرز کا ہاف ٹائم شو اور 27 منٹ کا وقفہ، آئندہ بھی برقرار رہیں گے یا نہیں۔
فیفا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فاتحین کو امریکی کھیلوں کی روایت کے مطابق چیمپیئن شپ رنگ بھی دیا جائے گا۔
امریکا کی ٹیم 6 جولائی کو پری کوارٹر فائنل میں بیلجیئم کے ہاتھوں ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی تھی تاہم اس کے باوجود ورلڈ کپ کے باقی میچوں کی ریٹنگز مضبوط رہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگلا فیفا ورلڈ کپ 2030 میں اسپین، پرتگال اور مراکش کی مشترکہ میزبانی میں جب کہ 2034 کا ورلڈ کپ سعودی عرب میں کھیلا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ٹائم زونز کے باعث ان ٹورنامنٹس کے میچ امریکی ناظرین کے لیے کم موزوں اوقات میں ہوں گے، جس سے مستقبل میں ٹی وی ریٹنگز متاثر ہونے کا امکان ہے۔
.png)
2 hours ago
2





English (US) ·