Times of Pakistan

فیفا ورلڈ کپ میں ایرانی ٹیم کے ساتھ امتیازی سلوک ہوا، ایران کا امریکا پر الزام

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

تہران کا کہنا ہے ویزوں، رہائش اور دیگر انتظامات میں رکاوٹیں ڈال کر عالمی کھیلوں کی میزبانی کے اصول متاثر کیے گئے۔

ایران نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران اپنی قومی فٹبال ٹیم کے ساتھ روا رکھے گئے رویے پر امریکا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ویزوں کے اجرا سے لے کر رہائش کے انتظامات تک ایرانی وفد کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض امریکی حکام کے بیانات نے بھی کھیلوں کو سیاست سے جوڑنے کا تاثر دیا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران ایرانی قومی فٹ بال ٹیم کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا جو عالمی کھیلوں کی میزبانی کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ان کے مطابق ایرانی ٹیم کو پورے ٹورنامنٹ کے دوران انتہائی سیاسی ماحول کا سامنا کرنا پڑا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ویزوں کے اجرا کا معاملہ ابتدا ہی سے مشکلات کا شکار رہا اور ایرانی ٹیم کے متعدد تکنیکی عملے اور فٹ بال فیڈریشن کے عہدیداروں کو ویزے جاری نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول اس صورتِ حال نے ٹیم کی تیاریوں اور انتظامی امور کو متاثر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قومی ٹیم کی رہائش کے انتظامات بھی تنازع کا باعث بنے، کیونکہ ٹیم کو میچوں کے مقام کے بجائے دوسری جگہ ٹھہرایا گیا، جس سے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کو غیر ضروری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ایرانی ترجمان نے امریکا کے وزیرِ داخلی سلامتی مارک وین مولن کے بیان پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے ایران کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر خوشی کا اظہار کرنا کھیلوں کے جذبے اور بین الاقوامی روایات کے منافی ہے۔

اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کرنے والے ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام ٹیموں کے ساتھ یکساں، غیر جانب دار اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کریں تاکہ کھیلوں کو سیاسی اختلافات سے دور رکھا جا سکے۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ایران گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ایران کو اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لیے آسٹریا کی فتح درکار تھی، تاہم آسٹریا اور الجزائر کا میچ 3-3 سے برابر ختم ہونے کے بعد دونوں ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئیں جب کہ ایرانی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔

میچ کے بعد سوشل میڈیا پر مقابلے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں، تاہم آسٹریا کے ہیڈ کوچ رالف رانگنک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ٹیموں نے آخری لمحے تک فتح کے لیے بھرپور کوشش کی۔

الجزائر کے کپتان ریاض محرز نے بھی کہا کہ انہوں نے کھیل کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے گول کرنے کی کوشش کی اور کسی غیر معمولی صورتِ حال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Read Entire Article