Times of Pakistan

قطر کی طرف سے تحفے میں دیا گیا لگژری جہاز ٹرمپ کو موصول

2 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

قطر کی طرف سے تحفے میں دیئے گیا 40 کروڑ ڈالر کا جدید بوئنگ طیارہ نئے ایئر فورس ون کے طور پر استعمال ہوگا

قطر کی جانب سے امریکی صدر کو تحفے میں دیے گئے نئے ایئر فورس ون طیارے کی رونمائی کر دی گئی۔ جسے “ایئر فورس ون” بیڑے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

امریکی فضائیہ کے مطابق اس بڑے مسافر بردار طیارے میں جدید سیکیورٹی سسٹمز، بہتر مواصلاتی نظام، لاجسٹک سپورٹ اور جدید ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے، جبکہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے میں پہلے سے موجود ممکنہ سیکیورٹی خدشات کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

طیارے کے اندرونی ڈھانچے میں زیادہ بڑی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم اس کے بیرونی حصے کو سرخ، سفید، نیلے اور سنہری رنگوں کی نئی پینٹنگ سے مزین کیا گیا ہے، جسے ایک شاہانہ اور جدید انداز دیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ ایسی سطح کی عیش و عشرت اور معیار کا حامل ہے جو اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔

ان کے مطابق اس میں استعمال ہونے والا لکڑی کا کام، اندرونی میٹریل اور انجن دنیا کے بہترین معیار کے ہیں۔ انہوں نے قطر کے امیر کا شکریہ بھی ادا کیا اور اسے “اعزاز” قرار دیا۔

یہ طیارہ مئی 2025 میں قطری شاہی خاندان کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا اور اس پر اس وقت شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا تھا۔ دونوں بڑی امریکی سیاسی جماعتوں کے بعض رہنماؤں نے اسے مفادات کے ٹکراؤ اور ممکنہ طور پر آئینی مسئلہ قرار دیا تھا۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ اتنی مہنگی غیر ملکی تحفہ قبول کرنا قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

امریکی قانون کے مطابق سرکاری حکام صرف 480 ڈالر تک کے تحائف قبول کر سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طیارے کو قبول کرنا قانونی طور پر درست ہے۔ حکام نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یہ طیارہ ٹرمپ کے صدارتی دور کے بعد ان کی صدارتی لائبریری کو منتقل کر دیا جائے گا۔

امریکی فضائیہ کے مطابق یہ طیارہ وقتی طور پر صدر کے استعمال میں رہے گا، جب تک بوئنگ کے طویل عرصے سے زیرِ التوا نئے VC-25B طیارے مکمل نہیں ہو جاتے۔ ان نئے طیاروں کی فراہمی میں کئی برس کی تاخیر ہو چکی ہے۔

دوسری جانب پرانے ’’ایئر فورس ون‘‘ بیڑے میں شامل 1990 سے زیر استعمال دو بوئنگ 747-200B طیاروں میں سے ایک کو مرحلہ وار سروس سے نکال دیا گیا ہے، جس کے بعد نیا قطری طیارہ اس کی جگہ اہم کردار ادا کرے گا۔

Read Entire Article