Times of Pakistan

قومی بچت سکیموں میں سب سے زیادہ منافع کیسے حاصل کریں؟ جانیے پانچ آسان طریقے

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

، اگر شہری چند مخصوص طریقوں پر عمل کریں تو وہ اپنی سرمایہ کاری پر زیادہ سے زیادہ قانونی منافع حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں بہت سے لوگ اپنی جمع پونجی کو محفوظ رکھنے اور اس پر اچھا منافع کمانے کے لیے قومی بچت اسکیموں (نیشنل سیونگز) کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم، کچھ بنیادی باتوں اور سرکاری قوانین سے لاعلمی کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اپنے پورے منافع سے محروم رہ جاتے ہیں۔

مالیاتی ماہرین اور قومی بچت کے مروجہ قوانین کے مطابق، اگر شہری چند مخصوص طریقوں پر عمل کریں تو وہ اپنی سرمایہ کاری پر زیادہ سے زیادہ قانونی منافع حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے پیسوں کو کٹوتیوں سے بھی بچا سکتے ہیں۔

اس کے لیے سب سے پہلا اور اہم طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ اہل ہیں تو زیادہ منافع دینے والی فلاحی اسکیموں کا انتخاب کریں۔

حکومت نے بزرگ شہریوں (جن کی عمر 60 سال یا اس سے زیادہ ہو)، بیواؤں اور معذور افراد کے لیے بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ جیسی خصوصی اسکیمیں بنا رکھی ہیں۔

ان اکاؤنٹس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ قانونی طور پر ہر قسم کے ٹیکس اور زکوٰۃ کی کٹوتی سے پوری طرح آزاد ہوتے ہیں۔

اگر آپ خود اس کے لیے اہل نہیں ہیں یعنی آپ کی عمر 60 سال سے کم ہے، تو آپ اپنے خاندان کے کسی اہل رکن، جیسے والدین یا شریک حیات کے نام پر قانونی طور پر یہ سرمایہ کاری کر کے زیادہ سے زیادہ ٹیکس فری منافع حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسرا بڑا طریقہ یہ ہے کہ آپ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل ہو کر خود کو ایکٹو ٹیکس فائلر بنائیں۔

حکومت کے موجودہ قوانین کے مطابق، جو لوگ فائلر ہوتے ہیں ان کے منافع پر صرف 15 فیصد ٹیکس کٹتا ہے، جبکہ نان فائلرز کے لیے یہ ٹیکس بڑھ کر 30 سے 35 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ فائلر نہ بننے کی صورت میں آپ کے منافع کا ایک بڑا حصہ ٹیکس کی نظر ہو جاتا ہے، اس لیے فائلر بننا سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے ہمیشہ سب سے زیادہ منافع دینے والے اکاؤنٹس کا انتخاب کریں۔

چونکہ وزارتِ خزانہ ملکی حالات کے مطابق منافع کی شرح تبدیل کرتی رہتی ہے، اس لیے منافع کے تازہ ترین چارٹ پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

اسلامی طریقے سے سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے لیے سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹ ایک بہترین انتخاب ہے، جبکہ کم مدت کے لیے رقم جمع کرانے والے شہری شارٹ ٹرم سیونگز سرٹیفکیٹ کا استعمال کر سکتے ہیں جو تین، چھ یا بارہ مہینوں کے لیے اچھا منافع فراہم کرتے ہیں۔

چوتھی اہم بات یہ ہے کہ اپنی رقم کو وقت سے پہلے نکالنے پر ہونے والے نقصان سے بچیں۔

اگر آپ ریگولر انکم سرٹیفکیٹ یا دیگر طویل مدتی اکاؤنٹس میں رقم رکھتے ہیں تو انہیں مقررہ وقت پورا ہونے تک برقرار رکھیں۔

اگر آپ وقت سے پہلے رقم نکلواتے ہیں تو آپ پر آدھا فیصد سے لے کر دو فیصد تک بھاری جرمانہ یا سروس چارجز عائد کر دیے جاتے ہیں۔

خاص طور پر پہلے چھ سے بارہ مہینوں کے دوران رقم نکالنے سے آپ کا پورا منافع بھی ختم ہو سکتا ہے۔

آخری طریقہ زکوٰۃ کی کٹوتی سے بچنا ہے۔ ایسے تمام اکاؤنٹس جن پر زکوٰۃ لاگو ہوتی ہے، ان کے لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ پہلی رمضان سے پہلے زکوٰۃ استثنا کا فارم (سی زیڈ پچاس حلف نامہ) لازمی جمع کرائیں تاکہ رقم نکالتے وقت ڈھائی فیصد کی لازمی کٹوتی سے بچا جا سکے۔

Read Entire Article