Times of Pakistan

قومی صنعتی تعلقات کمیشن کے چیئرمین اور ممبر کی تعیناتی نہ ہونے کے خلاف کیس کی سماعت

10 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

اسلام آباد ہائیکورٹ میں قومی صنعتی تعلقات کمیشن کے چیئرمین اور ممبر کی تعیناتی نہ ہونے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے وکیل عمیر بلوچ کی درخواست پر سماعت کی، جبکہ ایڈوکیٹ شعیب شاہین درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر تک این آئی آر سی کے سینئر ممبر کو ایکٹنگ چارج دینے کا حکم دے دیا۔

دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین این آئی آر سی کی تعیناتی کی سمری بھجوا دی گئی ہے، دو ہفتے کا وقت دیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ یکم مئی سے عہدہ خالی ہے اور آج تیرہ تاریخ ہوچکی ہے، اب مزید دو ہفتے مانگے جا رہے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ سمری میں ایک لائن کیوں نہیں ڈالتے کہ جب تک نیا چیئرمین آتا ہے، جو سینئر ہے اسے ایکٹنگ چیئرمین کا چارج دے دیا جائے۔

ایڈوکیٹ شعیب شاہین نے کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ جب تک نئی تعیناتی نہیں ہوتی کسی سینئر کو ایکٹنگ چارج کیوں نہیں دیا جا رہا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ “آپ کو حیرت ہو رہی ہے، بڑی بات ہے، اب تو جو صورتحال ہے اس پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔”

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے مزید ریمارکس دیے کہ “اب حیرت نہیں ہوتی جو ہو رہا ہے، اب عادت نہیں بلکہ شیوہ ہوگیا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ تعیناتی کا معاملہ جاری ہے اور اس میں کچھ وقت لگے گا، عدالت مہلت دے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ جب تک تعیناتی نہیں ہوتی، جو سینئر ہے اسے ایکٹنگ چیئرمین کا چارج دے دیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے کہا کہ ممبرز کام کر رہے ہیں اور کام رکا ہوا نہیں ہے۔

شعیب شاہین نے کہا کہ چیئرمین نہ ہو تو کوئی کام نہیں ہوتا، بنچ کون بنائے گا، شعیب شاہین نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہاں چیف جسٹس نہ ہو تو دیگر ججز کیا بنچز بنا سکتے ہیں، وہاں بھی یہی صورتحال ہے۔

شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس شوکت صدیقی کے استعفے کے بعد مستقل چیئرمین تاحال تعینات نہیں ہوا، جبکہ ایک ممبر بھی ریٹائر ہوچکے ہیں۔

وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ این آئی آر سی اس وقت غیر فعال ہے اور پورے پاکستان کے ورکرز کے کیسز اس ٹریبونل میں آتے ہیں۔

شعیب شاہین نے کہا کہ کسی کی ایمرجنسی ہوسکتی ہے لیکن وہاں چیئرمین اور ممبرز ہی موجود نہیں ہیں۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین نہیں ہے تو کیسز کون مارک کرے گا اور بنچ کون بنائے گا۔

این آئی آر سی حکام نے عدالت کو بتایا کہ نئی فائلنگ کی مارکنگ اسٹاف کرتا ہے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ “آپ اپنا کام کریں، ہمیں اپنا کام کرنے دیں، عدالت نے حکومت کو پیر تک این آئی آر سی کے سینئر ممبر کو ایکٹنگ چارج دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

Read Entire Article