ARTICLE AD BOX
لیبیا کو ایک کرنے کا کوئی بھی منصوبہ تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب باہر کے ملکوں کے مفادات کو سنبھالا جائے اور عہدوں، الیکشن کے اصولوں اور تیل کی کمائی پر ہونے والے جھگڑوں کو ختم کیا جائے: ماہرین
شائع 07 جولائ 2026 09:19am
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے خاموشی سے لیبیا کی دو بڑی مخالف حکومتوں اور طاقتور گروہوں کے درمیان صلح کروانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ اگر پاکستان اس کوشش میں کامیاب ہو گیا تو دنیا بھر میں اس کی عزت اور سفارتی ساکھ بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔
لیبیا میں سال 2011 میں معمر قذافی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے خانہ جنگی چل رہی ہے اور پورا ملک مشرقی اور مغربی حصوں میں بٹ چکا ہے، جہاں دو الگ الگ طاقتیں اپنی اپنی حکومت چلاتی ہیں۔
لیبیا اس وقت دو مخالف حکومتوں میں بٹا ہوا ہے، جن کے پاس اپنے اپنے علاقے اور قانون بنانے کے اختیارات ہیں۔
ملک کا ایک حصہ مغربی علاقہ ہے جس کا مرکز طرابلس ہے، اور یہاں اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ ’گورنمنٹ آف نیشنل یونیٹی‘ (جی این یو) قائم ہے۔ اس حکومت کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ ہیں، جن کا کنٹرول دارالحکومت طرابلس اور زیادہ آبادی والے مغربی علاقوں پر ہے، اور انہیں بنیادی طور پر ترکیہ اور وہاں کے مقامی مسلح گروہوں کی حمایت حاصل ہے۔
یہ وہی حکومت ہے جسے سال 2021 میں امن مذاکرات کے بعد ملک میں الیکشن کرانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
دوسری طرف ملک کا مشرقی اور جنوبی حصہ ہے، جہاں ’گورنمنٹ آف نیشنل اسڑٹیبلٹی‘ (جی این ایس) قائم ہے جس کا مرکز سرت اور بن غازی کے شہر ہیں۔ اس حصے کے سب سے طاقتور اور اہم ترین شخصیت وہاں کی فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر ہیں، جن کا قبضہ ملک کے مشرقی علاقے، سب سے بڑے تیل کے کنوؤں اور بندرگاہوں پر ہے۔
اس مشرقی حکومت کو وہاں کے قبائلی رہنماؤں، پارلیمنٹ اور بین الاقوامی سطح پر مصر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور روس جیسے بڑے ملکوں کی پوری مدد حاصل ہے۔
رائٹرز کے مطابق، اس صلح کے لیے گزشتہ کئی مہینوں سے امریکا بھی کوششیں کر رہا ہے، لیکن اب پاکستان کو اس کام میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان اس سے پہلے رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان بھی صلح صفائی کا اہم کردار ادا کر چکا ہے، جس کی تعریف ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے بھی کی تھی۔
رائٹرز نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اب لیبیا کے معاملے میں بھی امریکی حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو سعودی عرب کی بھی پوری حمایت حاصل ہے۔
رائٹرز کے مطابق، صلح کی یہ کوششیں گزشتہ سال کے آخر میں شروع ہوئیں اور لیبیا کے دونوں مخالف دھڑوں نے خود پاکستان سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ، فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ (آئی ایس پی آر)، اور امریکا، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت لیبیا کے دونوں دھڑوں نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا کو ایک کرنے کا کوئی بھی منصوبہ تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب باہر کے ملکوں کے مفادات کو سنبھالا جائے اور عہدوں، الیکشن کے اصولوں اور تیل کی کمائی پر ہونے والے جھگڑوں کو ختم کیا جائے۔
برطانیہ کے ایک تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ماہر جلیل حرشاوی نے اس صورتحال پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا لیبیا میں بہت سخت کوششیں کر رہا ہے، لیکن وہ جس طرح کا ڈھانچہ وہاں نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ ابھی تک بہت ڈھیلا اور غیر واضح ہے۔
رائٹرز نے بتایا کہ صلح کے اس مجوزہ منصوبے کے مطابق، لیبیا میں اگلے 36 مہینوں یعنی تین سال کے لیے ایک عارضی حکومت بنائی جائے گی جس کا نام ’گورنمنٹ آف نیشنل کنسینسس اور پریزیڈنشل کونسل‘ ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ مغربی حکومت کے عبدالحمید دبیبہ ملک کے وزیر اعظم رہیں گے، جبکہ مشرقی حکومت کے فوجی رہنما خلیفہ حفتر کے بیٹے اور ڈپٹی کمانڈر صدام حفتر صدارتی کونسل کے چیئرمین بنیں گے۔
چونکہ خلیفہ حفتر کے گروپ کا لیبیا کے بڑے تیل کے کنوؤں پر قبضہ ہے، اس لیے نئے منصوبے میں بجٹ کا پورا اختیار ان کے پاس رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس پورے معاہدے کو قائم رکھنے اور چلانے میں ایک سرگرم کردار ادا کرے گا۔
رائٹرز نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے راولپنڈی میں صدام حفتر سے ملاقات کی تھی، جس کے چند دن بعد ہی صدام حفتر نے واشنگٹن کا دورہ کیا اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔
اس موقع پر امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مارکو روبیو نے لیبیا کے رہنماؤں کی جانب سے اختلافات کو ختم کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور لیبیا کے اتحاد کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا۔
رائٹرز کے مطابق، اگرچہ بین الاقوامی ماہرین پاکستان کو لیبیا کے معاملے میں ایک چھوٹا کھلاڑی سمجھتے ہیں کیونکہ وہاں سالوں سے امریکا، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مصر اپنی طاقت منوانے میں لگے ہیں، لیکن پاکستان کے پاس یہ فائدہ ہے کہ اس کے تعلقات دونوں مخالف دھڑوں کے ساتھ اچھے ہیں۔
پاکستان نے لیبیا کی مشرقی فوج کے ساتھ جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فروخت کے لیے دفاعی تعلقات بھی بڑھائے ہیں، اور دوسری طرف مغربی حکومت نے بھی حال ہی میں پاکستان سے براہِ راست بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔
رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ قطر اور ترکیہ نے بھی پاکستان کو اس صلح کے عمل میں حصہ لینے کی ترغیب دی ہے۔ تاہم، انفورمی نامی کمپنی کے ڈائریکٹر طارق میگریسی نے اس حوالے سے ایک انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ جو معاہدہ سائن ہو جائے وہ برقرار بھی رہے گا، بالکل اسی طرح جیسے گزشتہ سال روانڈا اور جمہوریہ کانگو کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والا معاہدہ چند ہی مہینوں میں ٹوٹ گیا تھا۔
.png)
1 hour ago
2





English (US) ·