ARTICLE AD BOX
شائع 28 اپريل 2026 05:52pm
متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی تیل مارکیٹ اور خلیجی سیاست میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ تیل برآمد کرنے والے بڑے اتحاد اوپیک (OPEC) اور اوپیک پلس (OPEC+) سے علیحدگی اختیار کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتِ حال نے عالمی توانائی کی منڈی کو شدید متاثر کیا ہوا ہے اور عالمی معیشت غیر یقینی کا شکار ہے۔
یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی تیل پیداوار کی پالیسی، موجودہ اور مستقبل کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام قومی مفاد اور عالمی منڈی کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کے عزم کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور رکاوٹوں کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، تاہم طویل مدت میں عالمی توانائی کی طلب میں مسلسل اضافے کی توقع ہے۔ یو اے ای کا یہ فیصلہ یکم مئی سے نافذ العمل ہوگا۔
یو اے ای، جو طویل عرصے سے اوپیک کا اہم رکن رہا ہے، اس کے انخلا کو تنظیم کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے اوپیک کے اندر اتحاد کمزور پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب رکن ممالک کے درمیان پہلے ہی پیداوار اور سیاسی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم گزرگاہ ہے، پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ یہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، لیکن حالیہ ایرانی دھمکیوں اور حملوں کی وجہ سے برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یو اے ای کا یہ فیصلہ ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ پہلے ہی اوپیک پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ امریکا خلیجی ممالک کو سیکیورٹی فراہم کرتا ہے جب کہ یہ ممالک بلند تیل قیمتوں کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت بھی اہم بن گئی جب یو اے ای نے ایران کے حملوں کے دوران دیگر عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے ناکافی حمایت پر تنقید کی۔ یو اے ای کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے خلیجی تعاون کونسل کے ردعمل کو تاریخی طور پر کمزور قرار دیا اور کہا کہ سیاسی اور عسکری سطح پر مطلوبہ تعاون دیکھنے میں نہیں آیا۔
مجموعی طور پر یو اے ای کا اوپیک سے علیحدگی اختیار کرنا نہ صرف عالمی تیل منڈی بل کہ خلیجی سیاسی اتحاد کے لیے بھی ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
.png)
2 weeks ago
7






English (US) ·