ARTICLE AD BOX
مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے جنازے سے غیر حاضری نے ان کی عوامی موجودگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شائع 05 جولائ 2026 09:07am
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی کے سخت خدشات کے باعث تہران میں ہونے والی اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے جنازے سے غیر حاضری نے ان کی عوامی موجودگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اس تقریب کے انتظامات سنبھالنے والے ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کے دن مشہد میں ہونے والی اپنے والد کی تدفین کی تقریب میں شرکت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ لیکن ایرانی سیکیورٹی حکام نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی، کیونکہ سیکیورٹی اداروں کو شدید خطرہ ہے کہ اسرائیل اس موقع پر انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے خاندان پر جنگ کے پہلے ہی دن بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی تھی جب اسرائیل نے ایک حملے میں ان کی بیوی اور بیٹے کو ہلاک کر دیا تھا۔ بدھ کے روز ان دونوں کی تدفین کی گئی تھی اور مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس جنازے میں بھی شریک نہیں ہو پائے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای رواں سال مارچ کے مہینے سے اب تک کسی عوامی جگہ پر نظر نہیں آئے ہیں۔
تہران میں جاری آیت اللہ خامنہ ای تعزیتی تقریب میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت تمام بڑے سرکاری افسران موجود تھے۔
جمعے کے دن تہران کی مصلیٰ مسجد سے ان رسومات کا آغاز ہوا، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے تابوتوں کو ایران کے جھنڈے میں لپیٹ کر رکھا گیا تھا اور اس کے اوپر ایک کالی پٹی اور سیاہ و سفید چوکور اسکارف سجایا گیا تھا۔
مسجد کے باہر سوگواروں کا ایک بہت بڑا ہجوم جمع تھا جبکہ سرکاری میڈیا کے مطابق اندرونی تقریب کے دوران غمگین موسیقی کی دھنیں بھی بجائی جا رہی تھیں۔ آخری رسومات کا یہ سلسلہ اگلے پورے ہفتے جاری رہے گا اور نو جولائی کو مشہد میں تدفین کے ساتھ ختم ہوگا۔
.png)
1 hour ago
3






English (US) ·