ARTICLE AD BOX
ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے: محسن رضائی
ایرانے کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل کو تعطل کا شکار کر رکھا ہے، تاہم اگر امریکا مثبت اقدامات کرے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔
انٹرویوی میں ان کا کہنا تھا اگر امریکا ایران کے خلاف عائد محاصرہ اور دباؤ کی پالیسی ختم کرے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کرے تو ایران اور امریکا کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک نیا افق ابھر سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر نے مزید کہا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی عزم اور ہمت کا مظاہرہ کریں تو دونوں ممالک کے درمیان موجود کئی پیچیدہ معاملات حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کے بجائے سفارت کاری اور باہمی احترام پر مبنی اقدامات خطے اور دنیا کے مفاد میں ہوں گے۔
محسن رضائی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں، اور پابندیوں کے خاتمے سمیت اعتماد سازی کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوڈ فورس ون پوڈ کاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مستقبل میں ان کی کسی موقع پر ملاقات ہوسکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس عمل سے آگاہ اور اس میں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
بعد ازاں ایک اور موقع پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
اس دوران امریکی صدر نے واضح کیا تھا کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
.png)
9 hours ago
4




English (US) ·