Times of Pakistan

مزید حملے ہوئے تو امریکی اڈوں اور جنگی جہازوں کو نشانہ بنائیں گے: ایرانی فوج

3 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

دشمن کی کارروائیوں کا جواب طویل اور سخت حملوں کی صورت میں دیا جائے گا، چاہے وہ مختصر ہی کیوں نہ ہوں: میجر جنرل مجید موسوی

شائع 30 اپريل 2026 06:50pm

ایران کے ایک سینئر فوجی عہدیدار نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مزید حملے کی صورت میں ”طویل اور تکلیف دہ“ جواب دیا جائے گا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ایرو اسپیس کمانڈر میجر جنرل مجید موسوی نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر مزید بمباری کی تو اس کے خطے میں موجود اڈوں اور جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایرانی فوج نے مزید کہا کہ ”ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ آپ کے اڈوں کے ساتھ کیا ہوا، آپ کے جنگی بحری جہاز بھی اسی انجام سے دوچار ہوں گے“۔ انہوں مزید کہا کہ دشمن کی کارروائیوں کا جواب طویل اور سخت حملوں کی صورت میں دیا جائے گا، چاہے وہ مختصر ہی کیوں نہ ہوں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ایرانی مؤقف نے ان کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے منصوبوں پر بریفنگ دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں محدود مگر طاقتور حملے شامل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جب کہ امریکی صدر مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاکہ تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر بھی کام کر رہی ہے، جس میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کی طویل بندش جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق مقصد ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈال کر اسے بغیر براہِ راست فوجی کارروائی کے مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے۔

ادھر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کو دو ماہ ہو چکے ہیں اور اس دوران آبنائے ہرمز بدستور بند ہے، جس کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق 8 اپریل سے جنگ بندی موجود ہے، تاہم ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں اس اہم آبی گزرگاہ کو بند رکھا ہوا ہے، جو اس کی معیشت کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔

Read Entire Article