ARTICLE AD BOX
آرام دہ سفر کا نیا منصوبہ: 17 گھنٹے کی نان اسٹاپ پروازوں کی کامیابی اس نئے منصوبے کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
فرانسیسی شہر تولوز میں آسٹریلوی ایئرلائن قنطاس ایئرویز نے دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ پروازوں کے لیے اپنی نئی حکمت عملی کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی تحقیق کی مدد سے تقریباً 20 گھنٹے طویل فضائی سفر کو مسافروں کے لیے زیادہ آرام دہ اور کم تھکا دینے والا بنایا جا سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق قنطاس ایئر لائن اگلے سال اکتوبر سے سڈنی اور لندن کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ بعد ازاں سڈنی سے نیویارک تک بھی نان اسٹاپ سروس متعارف کرائی جائے گی۔ ان پروازوں کا مقصد مسافروں کو درمیان میں رکنے کی ضرورت سے بچانا ہے، تاہم اس سہولت کے لیے اضافی کرایہ وصول کیے جانے کا امکان ہے۔
ایئرلائن کے مطابق ان طویل پروازوں کے لیے خصوصی ”ویلنیس زون“ بنایا جائے گا جہاں مسافر کچھ وقت گزار کر جسمانی اور ذہنی تازگی حاصل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ نشستوں کے درمیان زیادہ جگہ، مخصوص اوقات میں پیش کیے جانے والے کھانے اور جدید لائٹنگ سسٹم بھی شامل ہوگا جو جسمانی گھڑی یا بایولوجیکل کلاک کو بہتر انداز میں ایڈجسٹ کرنے میں مدد دے گا۔
یونیورسٹی آف سڈنی کے نیند کے امراض کے ماہر پروفیسر پیٹر سسٹولی، جنہوں نے ”پروجیکٹ سن رائز“ کے تحت ہونے والی تحقیق میں حصہ لیا، کا کہنا ہے کہ اتنے زیادہ ٹائم زونز عبور کرنا انسانی جسم کے لیے ایک بڑا حیاتیاتی چیلنج ہوتا ہے۔ ان کے مطابق لندن کے سفر میں سات سے نو جبکہ نیویارک کے سفر میں 14 سے 16 ٹائم زونز تبدیل ہوتے ہیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید تھکن اور جیٹ لیگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
‘جیٹ لیگ‘ وہ کیفیت ہے جو کئی ٹائم زونز تیزی سے عبور کرنے کے بعد جسم کی اندرونی گھڑی اور مقامی وقت کے درمیان فرق پیدا ہونے سے ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں تھکن، نیند کے مسائل، اور توجہ میں کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے خوراک، نشستوں کے ڈیزائن، جسمانی حرکت اور روشنی کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اگر پرواز کے آغاز کے فوراً بعد کھانا دینے سے گریز کیا جائے اور روشنی کے ذریعے ایک مناسب ”نیند کا دورانیہ“ پیدا کیا جائے تو مسافر زیادہ چوکنا اور کم تھکے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔
طیارے کے اندرونی ڈیزائن کے ذمہ دار ڈیوڈ کیون کا کہنا ہے کہ انہیں اس منصوبے کو صرف خوبصورتی کے بجائے صحت اور سائنس کے نقطہ نظر سے ڈیزائن کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ان کے مطابق جب کوئی مسافر تقریباً پورا دن طیارے میں گزارنے والا ہو تو ہر چیز کو نئے انداز سے سوچنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں ورزش کے لیے سائیکلیں اور یوگا میٹ شامل کرنے پر بھی غور کیا گیا تھا، لیکن آخرکار انہیں منصوبے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ تاہم ویلنیس زون کو برقرار رکھا گیا، جہاں نرم اور پھیلی ہوئی روشنی کا استعمال کیا جائے گا تاکہ مسافروں کو آرام دہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
طیارے میں نصب خصوصی لائٹنگ سسٹم طلوع اور غروب آفتاب جیسا ماحول پیدا کرے گا۔ مختلف اوقات کے مطابق روشنی کا رنگ اور شدت تبدیل ہوگی تاکہ مسافروں کے جسم کو نئی منزل کے وقت کے مطابق ڈھالنے میں مدد مل سکے۔ اس مقصد کے لیے 14 مختلف لائٹنگ پروگرام تیار کیے گئے ہیں، جنہیں آسٹریلیا کے قدرتی مناظر سے متاثر ہو کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔
قنطاس کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد 20 سے 22 گھنٹے تک جاری رہنے والی پروازوں کے دوران ہونے والی جسمانی اور ذہنی تکلیف کو کم کرنا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ صرف مسافروں کے آرام کے لیے نہیں بلکہ کاروباری اعتبار سے بھی اہم ہے، کیونکہ آسٹریلیا کے جغرافیائی فاصلے کو ایک منفرد سفری تجربے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
قنطاس کی چیف ایگزیکٹو وینیسا ہڈسن کا کہنا ہے کہ کمپنی کو امید ہے کہ براہ راست پروازوں کے لیے مسافر اضافی رقم ادا کرنے پر آمادہ ہوں گے، جیسا کہ پرتھ سے یورپ جانے والی طویل پروازوں کے تجربے سے ظاہر ہوا ہے۔ بیشتر ہوا بازی کے ماہرین بھی سمجھتے ہیں کہ پرتھ اور لندن کے درمیان 17 گھنٹے کی نان اسٹاپ پروازوں کی کامیابی اس نئے منصوبے کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
طیارے کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس میں نسبتاً کم تعداد میں، یعنی 238 مسافروں کو جگہ دی جائے گی، جن میں زیادہ تر پریمیم کلاس کی نشستیں ہوں گی۔ وزن کی پابندیوں کے باعث بعض حالات میں ایندھن بچانے کے لیے کچھ نشستیں خالی بھی رکھی جا سکتی ہیں۔
ہوا بازی کی صنعت سے وابستہ ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اتنے طویل راستوں پر آپریشنل خطرات بھی موجود ہیں، جن میں خراب موسم یا دیگر غیر متوقع حالات کے باعث راستہ تبدیل کرنے کی صورت میں اضافی اخراجات شامل ہیں۔ تاہم اگر منصوبہ کامیاب رہا تو یہ دنیا بھر کی فضائی صنعت میں طویل فاصلے کے سفر کے انداز کو تبدیل کر سکتا ہے۔
.png)
1 hour ago
2






English (US) ·