ARTICLE AD BOX
صوبے میں اسکول بند کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا، سعید غنی۔ فوٹو:فائل 
کراچی:
وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ میرے ادارے میں 20 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن ہوئی ہے۔ مجھ پر اس حوالے سے بہت دباؤ بھی ہے لیکن ہم دباؤ نہیں قبول کر رہے انہیں سزا دلانا چاہتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اس میں ملوث لوگوں کے میں نے تبادلے کردئیے تو جن کے تبادلے کئیے گئے انہیں عدالتوں نے ان کا ساتھ دیا، اب آپ ہی بتائیں ہم کیسے کام کریں۔ میں واضح پیغام ان لوگوں کو اور چوروں کو دوبارہ ان کی جگہ نہیں بٹھا سکتا.ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارا معاشرہ ابھی ویسا تہذیب یافتہ نہیں جیسا دوسرے ملکوں میں ہیں، ہم اس کے لئیے کوشش ضرور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ساری زندگی وزیر نہیں رہوں گا۔ وزارت بچانے کے لئیے اپنا منہ کالا نہیں کرسکتا اور میں دس مرتبہ وزارتوں پر لات مار سکتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کے تحت منعقدہ آل پاکستان وومن ورکرز کانفرنس سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے محنت کش لیڈران زہرہ خان، ناصر منصور، پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی ، ذوالفقار شاہ ، اسد اقبال، مظہر عباس، آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ سعید غنی نے کہا کہ سب سے پہلے سندھ حکومت ہے جس نے ہوم بیسڈ ورکرز کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی ہم ائیڈیلزم کی طرف چلے جاتے ہیں۔ میں خود بھی ایک ادارے کا برطرف شدہ ملازم ہوں۔ میری دادی خود دکان چلاتی تھیں اور انہوں نے میرے والد اور ہمیں پڑھایا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے پیچھے ایک ان پڑھ خاتون کا ہاتھ ہے جو میری دادی تھیں۔ آپ لوگ آج میری دادی سے زیادہ اچھے ماحول میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو مردوں کے ساتھ کام کرتے دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے، جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں ہمیں اس کا اندازہ ہونا چاہئیے۔ ہمارا معاشرہ ابھی ویسا تہذیب یافتہ نہیں جیسا دوسرے ملکوں میں ہیں۔ ہم اس کے لئیے کوشش ضرور کر رہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ میری لیڈر شپ مزدوروں کے حوالے سے کوئی تذبذب نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ 2016 میں جب میں مشیر محنت تھا تو مجھے ماہانہ 5 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی گئی تھی، جس نے یہ آفر دی تھی اس کا میں نے ایسی جگہ تبادلہ کروا دیا کہ وہاں اس کا کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ لیکن اس کے بعد مجھے عدالتی حکم پر کام سے روکا گیا جس پر میں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ یہاں اسٹیج پر بیٹھے لوگ مجھے بھی ٹف ٹائم دیتے ہیں، ان میں سے 4 ممبران کو میری وزارت کے مختلف محکموں میں گورننگ باڈی کے ارکان ہیں۔ اب چند دن پہلے ان میں سے تین ممبران کے لئے ہائی کورٹ سے فیصلہ آیا ہے کہ یہ یہ لوگ مزدوروں کے نمائندے نہیں ہیں، گو کہ میں خود عدلیہ میں اس کیس کو کروں گا صرف بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عدالتوں سے ایسے فیصلے آجاتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ میرے ادارے میں 20 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن ہوئی ہے۔ مجھ پر اس حوالے سے بہت دبائو بھی ہے لیکن ہم دباؤ نہیں قبول کر رہے انہیں سزا دلانا چاہتے ہیں۔ اس میں ملوث لوگوں کے میں نے تبادلے کردئیے تو جن کے تبادلے کئیے گئے انہیں عدالتوں نے ان کا ساتھ دیا، اب آپ ہی بتائیں ہم کیسے کام کریں۔ میں واضح پیغام ان لوگوں کو اور چوروں کو دوبارہ ان کی جگہ نہیں بٹھا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ صرف وزیروں پر چڑھائی نہ کریں، بلکہ ان پر بھی چڑھائی کریں جو کرپشن میں ملوث افراد کو شیلٹر دے رہے ہیں ۔ سعید غنی نے کہا کہ میں ساری زندگی وزیر نہیں رہوں گا ۔ وزارت بچانے کے لئیے اپنا منہ کالا نہیں کرسکتا اور میں دس مرتبہ وزارتوں پر لات مار سکتا ہوں۔ سعید غنی نے کہا کہ میری لیڈر شپ خرابیاں دور کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اکیلے کم سے کم 40 ہزار تنخواہ کے قانون پر عمل درآمد نہیں کرسکتی ہے۔ اس کے لئے ہمارے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ ہم ایک ایک فیکٹری یا ان جگہ کو چیک نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے مزدوروں کو بھی اتحاد کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے ساتھ ناانصافی پر ہمیں لکھ کر دیں بلکہ اس سے بڑھ کر میں تو کہتا ہوں کہ وہ 40 ہزار کم و کم پر شدہ اجرت پر کام کرنے کا انکار کردیں اور اگر یہ اتحاد تمام مزدوروں کا ہوگیا تو خود کمپنی اور فیکٹری مالکان آپ کو کام دینے کے لئے آپ کے پیچھے پیچھے ہوں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری پالیسی مزدور دوست پالیسی ہوتی ہے کم ازکم تنخواہ واقعی نہیں ملتی۔ مزدور خود بھی بتائے ہم کارروائی کریں گے۔ ہزاروں فیکٹریوں کی انسپکشن نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہراسمنٹ کے حوالے سے ہماری حکومت ان کا ساتھ دے گی، قانون بننے پر آپ اپنے حقوق کا تعین کرتے ہیں تاکہ آپ اپنا حق مانگ سکیں۔ حکومت سندھ نے جو قانون بنایا ہے وہ سوچ سمجھ کر بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب خاندان کو غربت سے نکالنے کا طریقہ تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے 20 لاکھ گھر بنا کر دے رہے ہیں اور عورت اس گھر کی مالک ہوگی مرد نہیں۔ 20 لاکھ گھر بننے سے بیس لاکھ خواتین امپاور ہوئی ہیں ان کے اکاؤنٹ بنے ہیں، اب وہ عورت بااختیار ہوگئی جسے کچھ پتا نہیں تھا۔ یہ امپاورمنٹ پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو کا وژن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنا کام سندھ میں اس حوالے سے ہوا ہے وہ کسی اور جگہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوم بیسڈ ورکرز کے سوشل سیکورٹی کارڈ بننے کے حوالے سے کچھ ایشوز سامنے آئے تھے، اس وقت پانچ سے چھ لاکھ مزدور رجسٹرڈ ہیں جن کی تعداد 50 لاکھ ہونی چاہئیے۔ ای او بی آئی اور ورکرز ویلفئیر کا حصہ ابھی وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ جن مزدوروں کو یہ کارڈ دیں ان کی فیملی کو اچھی تعلیم اور صحت کی سہولتیں دینے کی کوشش کریں گے۔
.png)
8 hours ago
1




English (US) ·