Times of Pakistan

نئی ہالی ووڈ فلم 'اوڈیسی' کے پیچھے 3 ہزار سال پرانی اصل کہانی کیا ہے؟

2 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

دنیا بھر کے ناظرین ایک بار پھر ہومر کی قدیم مگر ہمیشہ زندہ رہنے والی داستان سے متعارف ہو رہے ہیں۔

شائع 16 جولائ 2026 12:41pm

ہالی ووڈ کے مشہور فلم ساز کرسٹوفر نولان کی نئی فلم ’دی اوڈیسی‘ سینما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ یہ فلم کسی نئے زمانے کے اڑنے والے سپر ہیرو پر نہیں بنی، بلکہ یہ دنیا کی سب سے پرانی اور مشہور کہانیوں میں سے ایک پر مبنی ہے جسے یونان کے ایک شاعر ہومر نے آج سے تین ہزار سال پہلے لکھا تھا اور صدیوں سے دنیا بھر کے ادب، فلموں اور کہانیوں کو متاثر کیا ہے۔ اسے دنیا کے عظیم ترین ادبی شاہکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

فلم میں اداکار میٹ ڈیمن یونان کے افسانوی بادشاہ اوڈیسیئس کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو جنگ جیتنے کے بعد اپنے وطن واپس جانے کے لیے ایک طویل اور خطرناک سفر پر نکلتا ہے۔ یہ سفر صرف سمندری مشکلات کا نہیں بلکہ عقل، صبر اور حوصلے کا امتحان بھی بن جاتا ہے۔

کہانی کے مطابق اوڈیسیئس ٹرائے کی جنگ میں فتح کے بعد گھر واپسی کی کوشش کرتا ہے، لیکن راستے میں اسے کئی خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے دیوہیکل مخلوقات، جادوئی طاقتوں اور سمندری خطرات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنی طاقت کے بجائے ذہانت اور منصوبہ بندی سے مشکلات کو شکست دیتا ہے۔

دوسری جانب اس کی بیوی پینیلوپ اور بیٹا ٹیلی میکس برسوں تک اس کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں۔ پینیلوپ شوہر کی وفاداری کی امید نہیں چھوڑتی، جبکہ بیٹا اپنے والد کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جب اوڈیسیئس بیس سال بعد ایک فقیر کے روپ میں اپنے گھر واپس پہنچا تو اس نے اپنی عقل سے ان تمام دشمنوں کو مار بھگایا جو اس کا گھر برباد کرنا چاہتے تھے۔ کرسٹوفر نولان کی اس نئی فلم کا مقصد اسی پرانی کہانی کو نئے رنگ میں پیش کرنا ہے تاکہ آج کا انسان بھی سمجھ سکے کہ انسان کا حوصلہ اور اس کی عقل ہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

ہومر کی یہ داستان تقریباً آٹھویں صدی قبل مسیح میں لکھی گئی تھی اور آج بھی دنیا بھر کے ادب، فلموں اور کہانیوں پر اثر انداز ہے۔ ’دی اوڈیسی‘ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں دکھائے گئے افسانوی واقعات کے باوجود کہانی کے جذبات آج بھی انسانوں سے جڑے محسوس ہوتے ہیں، جیسے اپنے گھر واپس آنے کی خواہش، اپنوں سے محبت اور مشکل وقت میں امید قائم رکھنا۔

کرسٹوفر نولان کی فلم اسی لازوال کہانی کو جدید سینما کے انداز میں پیش کر رہی ہے، جس سے ایک بار پھر دنیا بھر کے ناظرین ہومر کی قدیم مگر ہمیشہ زندہ رہنے والی داستان سے متعارف ہو رہے ہیں۔

Read Entire Article