ARTICLE AD BOX
امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ اصل کمزور فریق واشنگٹن نہیں بل کہ تہران ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی اور عبوری مذاکرات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصل کمزور فریق واشنگٹن نہیں بل کہ تہران ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نہ صرف دباؤ کا شکار ہے بل کہ موجودہ صورتِ حال میں مجبوری کے تحت مذاکرات میں شریک ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے تازہ بیانات میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مذاکراتی عمل پر سخت اور جارحانہ انداز اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کسی دباؤ یا مجبوری کے تحت مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھا، بل کہ اصل میں ایران وہ فریق ہے جو اس وقت مشکلات اور دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں ہم نے مذاکرات مجبوری میں شروع نہیں کیے، مجبوری ایران کی ہے، وہ مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے 60 روزہ مذاکراتی فریم ورک کے تحت وقت دیا جائے گا، تاہم اس دوران امریکا اپنے مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایران کو کسی قسم کی مالی امداد یا رعایت نہیں دی جائے گی۔ ’نہ ایک ڈالر، نہ دس سینٹ‘۔ ان کے بقول یہ پالیسی واضح اور تبدیل نہ ہونے والی ہے۔
اپنے ایک اور بیان میں امریکی صدر نے جنگ کے بعد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اب ایران کے پاس فضائیہ، بحریہ، فضائی دفاعی نظام، ریڈار اور دیگر اہم عسکری ڈھانچے مؤثر طور پر موجود نہیں رہے۔
انہوں نے ڈیموکریٹک حلقوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی آوازیں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ایران پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے، جو ان کے مطابق حقیقت سے بالکل برعکس ہے۔
صدرٹرمپ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری عبوری سفارتی رابطوں اور ممکنہ معاہدے پر سیاسی بحث شدت اختیار کر رہی ہے اور دونوں جانب سے بیانات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں محدود سفارتی رابطے اور عبوری مذاکراتی کوششیں جاری ہیں۔ ان کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان برقرار ہے، جب کہ خطے کی صورتِ حال بھی غیر مستحکم ہے۔
.png)
1 hour ago
2





English (US) ·