ARTICLE AD BOX
اسلام آباد:
نئے وفاقی بجٹ میں شعبہ صحت کیلیے22 ارب روپے، پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کیلیے187.2 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویز سامنے آ گئیں. دستاویزات کے مطابق صحت کے بجٹ میں1.30 ارب بیرونی امداد،20.70 ارب روپے مقامی وسائل سے فراہم ہوں گے. صحت وغذائیت کیلیے24.3 ارب روپے،ترقیاتی بجٹ میں سوشل سیکٹر کے187.2 ارب روپے میں سے2.2 فیصد شعبہ صحت کیلیے مختص،امراض قلب سے بچائو اور تحقیق کیلیے1.5 ارب روپے، آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی توسیع کیلیے1ارب روپے، اسلام آباد میں میڈیکل سٹی کیلیے زمین حاصل کرنے کیلیے علامتی فنڈز مختص ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں تعلیم،ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 78.5 ارب روپے، مستحق طلبہ کو تعلیمی وظائف کیلئے3 ارب، پرائم منسٹر یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام میں3.29 ارب روپے، مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کو سکالرشپ کیلئے150 کروڑ،دانش اسکولز نیٹ ورک کا دائرہ پسماندہ علاقوں تک پھیلانے کیلئے اربوں مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ان میں بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، ژوب، قلعہ سیف اللہ، ڈیرہ بگٹی ،آزاد کشمیر میں باغ، بھمبر، شاردہ اور حویلی کہوٹہ،گلگت بلتستان میں سلطان آباد، شگر، استور، سکردو،سندھ میں ٹنڈو محمد خان اور ضلع چترال میں دانش سکولز کا قیام شامل ہے۔ ضم اضلاع کیلئے66.1 ارب روپے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 79.4 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔
.png)
21 hours ago
3






English (US) ·