ARTICLE AD BOX
شائع 28 جولائ 2026 01:23pm
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکا کے اہم دورے پر واشنگٹن روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ عرب میڈیا کے مطابق، نیتن یاہو اس دورے کے دوران انتہائی حساس معلومات اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں جو وہ امریکی صدر کو پیش کریں گے۔
عرب خبر رساں اداروں ’العریبیہ‘ اور الحدث‘ نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان معلومات میں خاص طور پر ایران کی جانب سے ایٹم بم کے حصول کی پیش رفت سے متعلق تازہ ترین انٹیلی جنس رپورٹ شامل ہے تاکہ امریکا کو ایران کی ایٹمی صلاحیتوں اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی اہم اور متنازع امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم لبنان اور شام سے فوج کے انخلا کے حوالے سے امریکی مطالبے پر اپنی شدید مخالفت کا اظہار کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ درخواست بھی کریں گے کہ امریکا ترکیہ کو جدید ”ایف 35“ جنگی طیاروں کی فروخت سے باز رہے کیونکہ اس سے خطے میں دفاعی توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ سے جب ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی فروخت پر اسرائیلی مخالفت کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ”کوئی مجھے نہیں بتا سکتا کیا کرنا ہے اور کیا نہیں“۔
واشنگٹن روانگی کے وقت نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے مقاصد کو واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ ”ان مشکل حالات میں انتہائی عزم اور بڑی دانش مندی کے ساتھ عمل کرنا ضروری ہے۔ ہم ایجنڈا پر موجود تمام امور پر بات کریں گے، جن میں سب سے پہلے ایران ہے، اور یقیناً ہمارا مقصد اپنی سیکیورٹی کا تحفظ اور اپنے ارد گرد امن کے دائرے کو وسعت دینا ہے“۔
امریکی صدر کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد نیتن یاہو کی ان سے یہ آٹھویں ملاقات ہوگی، جبکہ فروری میں ایران کے خلاف مشترکہ فضائی مہم کے آغاز کے بعد دونوں رہنما پہلی بار براہ راست آمنے سامنے ہوں گے۔
نیتن یاہو کا یہ سفر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔ پرواز کے بعد تک سفر کی تفصیلات، لینڈنگ کا وقت اور مقام ظاہر نہیں کیا گیا اور طیارے میں صحافیوں کو بھی ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
پرواز کے ڈیڑھ گھنٹے بعد وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں نیتن یاہو نے اس دورے کے وقت کو ”پیچیدہ حالات“ کا نتیجہ قرار دیا۔ جبکہ فلائٹ ٹریکنگ سے معلوم ہوا کہ ان کا سرکاری طیارہ بن گوریان ایئرپورٹ کے بجائے ”نیواتیم“ ایئر بیس سے روانہ ہوا۔
.png)
3 hours ago
1




English (US) ·