ARTICLE AD BOX
شائع 19 اپريل 2026 08:31am
ایران کی موجودہ صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا۔
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اجلاس کے دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جبکہ ایرانی حکام سے بھی بات چیت کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن بیک وقت سفارتی اور عسکری آپشنز پر کام کر رہا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے، جس کے بعد خطے میں دوبارہ جنگ بھڑکنے کا خدشہ ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ “ایران ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتا”، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے میں صرف دو دن باقی ہیں، جس کے باعث سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آئندہ 48 گھنٹے خطے کے لیے نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک تھے، جنہوں نے اسلام آباد مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، اور آئندہ مذاکرات بھی انہی کی سربراہی میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹر ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین بھی اجلاس میں موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اجلاس کے دوران کم از کم ایک بار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے براہ راست بات چیت کی۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں۔
.png)
1 week ago
3




English (US) ·