Times of Pakistan

'وزیرِاعظم اپنا گھر اسکیم' کا اجرا: ایک کروڑ روپے تک قرض کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

اپ ڈیٹ 30 اپريل 2026 04:37pm

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ملک بھر میں کم آمدنی والے افراد کے لیے پانچ سالہ ’وزیرِاعظم اپنا گھر پروگرام‘ کا افتتاح کر دیا ہے، جس کے تحت 32 کھرب روپے کی لاگت سے 5 لاکھ گھروں کی تعمیر کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف رہائش کا مسئلہ حل کرے گا بلکہ معیشت میں روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کو حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ پروگرام ایسے افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو مالی وسائل کی کمی کے باعث اپنا گھر بنانے سے محروم رہے ہیں۔

وزیراعظم نے اس اقدام کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ گھر کی ملکیت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام ملک کے تمام چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نافذ کیا جائے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اسکیم کی تفصیلات کیا ہیں، یہ کب سے شروع ہوگی۔ اس کی اہلیت کی شرائط کیا ہیں اور اپنا گھر بنانے کے لیے قرض کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟

پروگرام کا آغاز اور دورانیہ

اس منصوبے کا دورانیہ پانچ سال پر محیط ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور درخواستیں وصول کرنے کا عمل 29 اپریل سے شروع کر دیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت حکومت اگلے پانچ سال میں 5 لاکھ گھروں کے لیے قرض فراہم کرے گی، جبکہ پہلے سال میں 50 ہزار گھروں کا ہدف رکھا گیا ہے اور اس قرض کی واپسی کے لیے 20 سال تک کا وقت دیا جائے گا۔

اس اسکیم کے تحت آپ زیادہ سے زیادہ 1 کروڑ روپے تک قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ گھر کی کُل قیمت کا کم از کم 10 فیصد آپ کو خود ادا کرنا ہوگا، باقی رقم بینک قرض کی صورت میں دے گا۔

اس پروگرام کے تحت قرض کی رقم کو چار مختلف حصوں (سلیب) میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ہر طبقہ اپنی ضرورت اور گنجائش کے مطابق فائدہ اٹھا سکے:

  1. پہلا درجہ: 25 لاکھ روپے تک۔
  2. دوسرا درجہ: 50 لاکھ روپے تک۔
  3. تیسرا درجہ: 75 لاکھ روپے تک۔
  4. چوتھا درجہ: ایک کروڑ (100 لاکھ) روپے تک۔

یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ بینک آپ کو گھر کی کُل قیمت کا 90 فیصد تک قرض دے گا، جبکہ 10 فیصد رقم آپ کو خود ادا کرنی ہوگی۔ مثلاً اگر آپ 50 لاکھ روپے کا گھر خریدنا چاہتے ہیں، تو بینک آپ کو 45 لاکھ روپے دے گا اور 5 لاکھ روپے آپ کی اپنی جیب سے ہوں گے۔

کس قسم کا گھر لیا جا سکتا ہے؟

اس اسکیم سے حاصل شدہ رقم کے ذریعے آپ بنا بنایا گھر، فلیٹ یا اپارٹمنٹ خرید سکتے ہیں۔ اس رقم سے آپ اپنے پلاٹ پر گھر کی تعمیر بھی کرسکتے ہیں یا پلاٹ خرید کر بھی اس پر اپنا گھر تعمیر کرسکتے ہیں۔

1. نیا گھر

آپ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم یا شہر میں بنا بنایا نیا گھر خرید سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ گھر کا کُل رقبہ 10 مرلہ (2720 مربع فٹ) سے زیادہ نہ ہو۔

2. اپارٹمنٹ یا فلیٹ

آپ کسی بھی عمارت میں فلیٹ خرید سکتے ہیں۔ اس کے لیے رقبے کی حد 1500 مربع فٹ تک رکھی گئی ہے۔

3. پلاٹ کی تعمیر

اگر آپ کے پاس پہلے سے اپنا پلاٹ موجود ہے تو اس پر گھر بنانے کے لیے آپ تعمیراتی لاگت کا قرض لے سکتے ہیں۔

4. پلاٹ کی خریداری اور تعمیر

آپ پلاٹ خریدنے اور اس پر گھر بنانے، دونوں کاموں کے لیے ایک ساتھ قرض حاصل کر سکتے ہیں۔

تاہم ان تمام قرضہ جات کے لیے بھی کچھ مخصوص شرائط رکھی گئی ہیں اس پروگرام کے لیے اہلیت کا معیار سادہ رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔

اہلیت کی شرائط

اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست دہندہ کا پاکستانی شہری ہونا اور قومی شناختی کارڈ کا حامل ہونا ضروری ہے۔ یہ سہولت صرف ان افراد کے لیے ہے جو پہلی بار گھر خرید رہے ہیں۔

درخواست گزار کی کم از کم عمر 20 سال اور زیادہ سے زیادہ 65 سال (یا ریٹائرمنٹ عمر) مقرر کی گئی ہے، جبکہ کم از کم ماہانہ آمدنی 40 ہزار روپے ہونی چاہیے۔

ملازمت پیشہ افراد کے لیے کم از کم 6 ماہ کا مستقل تجربہ اور کاروباری افراد کے لیے کم از کم 2 سال کا کاروباری تجربہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ قریبی رشتہ داروں کو شریک درخواست گزار کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے مجموعی آمدنی کو یکجا کر کے قرض حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

بینک آپ کی ماہانہ آمدنی اور اخراجات کا جائزہ لے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ ماہانہ قسط آسانی سے ادا کر سکیں گے۔

گھر کی ملکیت کس کے نام ہوگی؟

اس اسکیم میں شامل ہونے کے بعد گھر کی ملکیت آپ ہی کے نام ہوگی۔ بینک آپ کے نام پر پراپرٹی خریدنے یا تعمیر کرنے کے لیے رقم فراہم کرے گا، اس لیے رجسٹری یا الاٹمنٹ لیٹر پر نام آپ کا ہی درج ہوگا۔

اگرچہ گھر آپ کے نام ہوگا، لیکن قرض کی مکمل واپسی تک اس کا قانونی طریقہ کار کچھ یوں ہوگا:

بینک گھر کے اصل کاغذات اپنے پاس بطور ضمانت محفوظ رکھے گا۔ اسے قانونی زبان میں ’گرہن رکھنا‘ کہتے ہیں۔ پراپرٹی کے کاغذات پر بینک کا حقِ انتفاع (Lien) درج ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ جب تک آپ قرض کی تمام اقساط ادا نہیں کر دیتے، آپ اس گھر کو کسی اور کو فروخت نہیں کر سکتے۔

جیسے ہی آپ 20 سال (یا اس سے پہلے) میں قرض کی تمام رقم اور مارک اپ ادا کر دیں گے، بینک آپ کو ایک ’نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ’ (این او سی) جاری کرے گا اور آپ کے اصل کاغذات آپ کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد بینک کا حق ختم ہو جائے گا اور گھر مکمل طور پر آپ کی آزادانہ ملکیت میں آ جائے گا۔

وزیراعظم شہبازشریف کے مطابق یہ اسکیم صرف گھر فراہم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس سے ملک میں روزگار بڑھے گا، تعمیراتی کام تیز ہوگا اور معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام پورے پاکستان، بشمول چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دستیاب ہوگا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے بینکوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جو بینک اس پروگرام میں عوام کی خدمت میں آگے بڑھیں گے، انہیں قومی اعزازات سے نوازا جائے گا جب کہ غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔

کیسے اپلائی کیا جاسکتا ہے؟

’اپنا گھر اسکیم‘ کے لیے اپلائی کرنے کے لیے مخصوص سرکاری ویب پورٹل کو جلد فعال کر دیا جائے گا، جس کے ذریعے آن لائن درخواستیں جمع کرائی جاسکتی ہیں۔

بینک سے رجوع

آپ اپنی قریبی کمرشل بینک، اسلامک بینک یا ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی کی برانچ میں جا کر بھی فارم حاصل کر سکتے ہیں۔

ضروری دستاویزات

درخواست کے وقت آپ کے پاس اصل شناختی کارڈ، آمدنی کا ثبوت (سیلری سلپ یا کاروبار کی تفصیل) اور اگر جگہ موجود ہے تو اس کے کاغذات ہونا ضروری ہیں۔

پراسیسنگ ٹائم

حکومت کے مطابق درخواست جمع ہونے کے بعد بینک ایک ماہ کے اندر منظوری دینے کا پابند ہوگا۔

پروگرام کی نمایاں خصوصیات

اس اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے تک فنانسنگ حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ درخواست دہندہ کو جائیداد کی قیمت کا کم از کم 10 فیصد خود ادا کرنا ہوگا۔

قرض کی مدت زیادہ سے زیادہ 20 سال ہوگی، جبکہ پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد شرح منافع مقرر کی گئی ہے اور بعد میں یہ شرح کیبور پلس 3 فیصد کے مطابق ہوگی۔

گھر کے سائز کے لیے حد مقرر کی گئی ہے، جس کے مطابق 10 مرلہ تک کا مکان یا 1500 مربع فٹ تک کا فلیٹ اس اسکیم میں شامل ہوگا، جبکہ جائیداد کی قیمت کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف لاکھوں افراد کو چھت فراہم کرے گا بلکہ ملک میں تعمیراتی شعبے کو متحرک کر کے وسیع پیمانے پر معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔

Read Entire Article