Times of Pakistan

وفاقی آئینی عدالت نے مقررہ مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا

1 hour ago 4
ARTICLE AD BOX

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلہ 90 دن میں سنانے کی پابند ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے کئی کئی ماہ عدالتی فیصلوں میں تاخیر اور فیصلہ سنانے سے قبل معلومات لیک ہونے کے خلاف اہم افیصلہ جاری کردیا ہے جب کہ عدالت نے مقررہ  مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف  ورزی قرار دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت  کے جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلے 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہیں، مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر ہی کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے رولز باقاعدہ قانون کا درجہ رکھتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج بھگتنا ہوتے ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ بینچ ممبران کا جانے انجانے میں سنائے جانے سے قبل فیصلہ لیک کرنا رولز کے خلاف ہے، تمام ججز اور عدالتی عملہ رولز پر عملدرآمد کا مکمل پابند ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اگر کسی مقدمے میں فیصلہ قبل از وقت لیک ہو جائے تو بینچ کا سربراہ ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے جب کہ ایسی سماعت وہی یا کوئی دوسرا بینچ بھی کر سکتا ہے۔ ہائی کورٹس میں ایسے معاملات چیف جسٹس کو جب کہ سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھجوائے جائیں گے۔ زیر التواء مقدمات کے بوجھ کے باوجود بروقت انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا کہ حالیہ عرصے میں فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سائلین کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے 10 ماہ بعد سنائے گئے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ آبزرویشنز کو حذف کردیا۔ یہ کیس پاکستان شپنگ کارپوریشن کی جانب سے پنشن ادائیگی کے معاملے پر دائر اپیل سے متعلق تھا۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے اسے ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کو بھجوایا جائے۔

Read Entire Article