Times of Pakistan

ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ: بھارت کے ہاتھوں پاکستان کو پہلے ہی میچ میں شرمناک شکست

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ ون کے ہائی وولٹیج میچ میں پاکستان کو روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں 64 رنز کے بڑے مارجن سے شکست ہوگئی ہے۔ بھارت کے 171 رنز کے ہدف ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم 106 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ ایونٹ میں پاکستانی ٹیم اپنا دوسرا میچ بدھ کو جنوبی افریقا کے خلاف کھیلے گی۔

اتوار کو برمنگھم میں کھیلے گئے میچ میں بھارت کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز اسکور کیے۔

بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم کی ابتدائی دو وکٹیں جلد گرنے کے بعد بھارتی مڈل آرڈر نے زبردست بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بولرز کی ایک نہ چلنے دی، بھارت  کی پہلی وکٹ 6 رنز پر گری جب شیفالی ورما 6 رنز بنا کر سعدیہ اقبال کا شکار ہوئیں۔ میچ میں پاکستان کے خلاف بھارت کی دوسری وکٹ 18 کے اسکور پر گری جب جمائیما روڈریگز ایک رن بنا کر تسمیہ رباب کی گیند پر آؤٹ ہوئیں۔

ابتدائی دو وکٹیں صرف 18 رنز پر گرنے کے بعد بھارت دباؤ میں تھا، اس کے بعد سمرتی مندھانا اور ہرمن پریت کور نے بیٹنگ لائن کو سنبھالا، مندھانا کی نصف سنچری نے بھارت کو مضبوط بنیاد فراہم کی، بھارت کی جانب سے اوپنر سمرتی مندھانا نے 68 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

سمرتی مندھانا کے بعد بھارتی کپتان ہرمن پریت کور 36 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئیں، جس کے بعد قومی خواتین ٹیم نے بھارت پر دباؤ بنانے کی کوشش کی تاہم رِچا گھوش نے اختتامی اوورز میں برق رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے 17 گیندوں پر 34 رنز کی اننگز کھیل کر بھارت کو بڑے مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان کی جانب سے فاطمہ ثناء اور سعدیہ اقبال نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ رامین شمیم اور تسمیہ رباب 1، 1 وکٹ لے سکیں۔

بھارت کی جانب سے دیے گئے 171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی بولرز کی شاندار بولنگ اور عمدہ فیلڈنگ کے باعث پاکستانی ٹیم مطلوبہ رفتار برقرار نہ رکھ سکا اور 106 رنز پر ہی ہمت ہار گئی اور اس طرح بھارت نے یہ مقابلہ 64 رنز سے جیت کر ٹورنامنٹ میں 2 اہم پوائنٹس حاصل کر لیے۔

پاکستان کی جانب سے منیبہ علی 41 رنز بنا کر نمایاں رہیں جب کہ عالیہ ریاض ن ے 18، عائشہ ظفر اور گُل فروزہ نے 12،12 رنز بنائے اور دیگر بیٹرز بھارتی اسپن اٹیک کے سامنے زیادہ مزاحمت نہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ نطالیہ پرویز 7، ناشرہ سندھو 4، رامین شمیم 4، سائرہ جبین 2 رنز بناکر آؤٹ ہوئیں۔

میچ کا اہم موڑ 11 ویں اوور میں آیا جب پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا صفر پر آؤٹ ہوئیں جب کہ سیٹ بیٹر منیبہ علی رن آؤٹ ہوگئیں، جس کے بعد پاکستان کی امیدیں تقریباً ختم ہوگئیں۔

بھارت کی جانب سے دیپتی شرما نے 5 وکٹیں حاصل کیں جب کہ شری چرانی نے 3  اور شفالی ورما نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

آئی سی سی ٹی 20 ویمنز ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز اور دلچسپی سے بھرپور مقابلے انگلینڈ کے مختلف شہروں میں جاری ہیں، جہاں میگا ایونٹ کا آج سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا ہوا اور دونوں ٹیموں کے فینز بڑی تعداد میں اپنے ٹیموں کی سپورٹ کے لیے اسٹیڈیم پہنچے۔

برمنگلھم کے ایجبسٹن اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میگا ایونٹ کے چھٹے میچ میں بھارتی کپتان ہرمن پریت کور نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

آج بھی دوران ٹاس  بھارتی کپتان ہرمن پریت کور نے پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا سے ہاتھ نہیں ملایا اور  ٹاس جیتنے کے بعد انٹرویو  دےکر ڈریسنگ روم روانہ ہوگئیں۔

ٹاس کے بعد بھارتی کپتان ہرمن پریت کور کا کہنا تھا کہ پچ بیٹنگ کے لیے بہت اچھی لگ رہی ہے، اسی لیے ہم نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، پچھلے ورلڈکپ سے بہت زیادہ اعتماد ملا ہے اور میچ کے لیے بہت زیادہ پرجوش ہیں ہماری توجہ اپنی منصوبہ بندی پر عمل کرنے پر ہے۔

پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا کہا کہ لگ رہا ہے پچ بیٹنگ کے لیے بہت اچھی ہے، ہم بھی ٹاس جیت جاتے تو بیٹنگ ہی کرتے، ہمارے پاس بہترین بولرز ہیں، کوشش کریں گے کم اسکور تک بھارت کو محدود کریں، ہمارے پاس بہترین اسپنر اور اچھے فاسٹ بولر ہیں۔

آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ کے دوران بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان سے مصافحہ نہیں کیا۔

برمنگھم کے تاریخی اسٹیڈیم ایجبسٹن میں ٹاس کے دوران بھارتی کپتان ہرمن پریت کور نے پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا سے روایتی ہینڈ شیک کرنے سے گریز کیا۔ یہ رویہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف اختیار کی جانے والی نو ہینڈ شیک پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مشاہدہ ایشیا کپ 2025 کے بعد مردوں اور خواتین، دونوں ٹیموں کے مقابلوں میں بھی کیا جا چکا ہے۔

اس سے قبل ویمنز ورلڈ کپ 2025 سمیت دیگر مقابلوں میں بھی ایسے مناظر دیکھنے میں آئے تھے، جہاں ٹاس کے موقع پر دونوں ٹیموں کی کپتانوں نے روایتی انداز میں مصافحہ نہیں کیا تھا۔

بھارتی میڈیا اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اس طرزِ عمل کو سیاسی پالیسی سے جوڑتے ہیں جب کہ پاکستانی حلقوں کی جانب سے اسے کھیل کی روح اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

Read Entire Article