Times of Pakistan

ٹرمپ نے اپنے کرپٹو بزنس سے کتنا کمایا؟ حیران کن انکشاف

2 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

شائع 01 جولائ 2026 12:14pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ مالی گوشواروں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال اپنے خاندان کے کرپٹو منصوبوں سے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر سے زیادہ کی آمدن حاصل کی۔ ان سرکاری دستاویزات کے جائزے کے مطابق اب ٹرمپ کی مجموعی آمدن کا سب سے بڑا حصہ ڈیجیٹل اثاثوں یعنی کرپٹو منصوبوں، سے آ رہا ہے، جنہیں ان کی انتظامیہ کی بعض پالیسیوں سے فائدہ پہنچنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

امریکی دفتر برائے حکومتی اخلاقیات میں 2025 کے لیے جمع کرائے گئے سالانہ مالی گوشواروں کے مطابق، ٹرمپ کی کمپنیوں کو ان کے اور ان کے بیٹوں کی مشترکہ قائم کردہ کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔ اس رقم میں 52 کروڑ ڈالر سے زیادہ کرپٹو ٹوکنز کی فروخت سے حاصل ہوئے، جبکہ 25 کروڑ ڈالر سے زائد کمپنی میں شیئرز فروخت کرنے سے آئے۔ ان گوشواروں کے مطابق اس آمدن کو صدر ٹرمپ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تقسیم کرتے ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے نام سے منسوب میم کوائنز کی فروخت سے مزید 63 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی آمدن ظاہر کی ہے۔ گزشتہ سال کے مالی گوشواروں میں ورلڈ لبرٹی فنانشل سے ٹوکن فروخت کی مد میں تقریباً 5 کروڑ 73 لاکھ ڈالر آمدن ظاہر کی گئی تھی، جبکہ اس سال یہ رقم کئی گنا بڑھ کر سامنے آئی ہے۔

رائٹرز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں اندازہ لگایا تھا کہ 2025 میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے ٹرمپ خاندان نے کرپٹو سے متعلق مختلف منصوبوں کے ذریعے کم از کم 2.3 ارب ڈالر کمائے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، صدر بننے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے کرپٹو صنعت کے لیے متعدد ایسی پالیسیاں متعارف کرائیں جنہیں اس شعبے کے لیے سازگار قرار دیا گیا۔ ان میں اسٹیبل کوائنز سے متعلق وفاقی قواعد متعارف کرانا اور امریکی محکمہ انصاف اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے کرپٹو صنعت پر نگرانی میں نرمی شامل ہے۔

کرپٹو کے علاوہ مالی گوشواروں میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹرمپ نے مختلف میڈیا کمپنیوں کے ساتھ قانونی تصفیوں سے 8 کروڑ ڈالر سے زیادہ جبکہ بیرون ملک تعمیراتی منصوبوں کو اپنا نام استعمال کرنے کے لائسنس دینے سے تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی آمدن حاصل کی۔ اس آمدن کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والے معاہدوں سے منسلک بتایا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ایک بیان میں کہا کہ نہ صدر ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان نے کبھی مفادات کے ٹکراؤ میں ملوث ہونے کا کوئی اقدام کیا ہے اور نہ آئندہ کریں گے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے انتظامی اقدامات کے ذریعے امریکا کو دنیا کا کرپٹو مرکز بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے تمام فیصلے امریکی عوام کے بہترین مفاد میں کیے جاتے ہیں۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ صدر ٹرمپ کے کاروباری معاملات اس وقت ان کے بچوں کی نگرانی میں ہیں، تاہم مالی گوشواروں کے مطابق وہ اس ٹرسٹ کے حتمی فائدہ اٹھانے والے ہیں جس میں یہ آمدن منتقل ہوتی ہے۔

مالی دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے روایتی کاروبار، خاص طور پر گالف کلب اور ریزورٹس، بھی لاکھوں ڈالر کی آمدن کا ذریعہ رہے۔

2025 میں ان کاروباروں کی آمدن تقریباً 15 فیصد اضافے کے بعد 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ فلوریڈا میں واقع ’مار اے لاگو کلب‘ کی آمدن 2024 کے 5 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 7 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہو گئی، جبکہ ویسٹ پام بیچ کے ’گالف کلب‘ کی آمدن میں بھی 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب لاس اینجلس میں واقع ٹرمپ کے گالف کورس کی آمدن میں کمی آئی۔

رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں بھی ٹرمپ نے متعدد تجارتی جائیدادوں سے آمدن ظاہر کی، تاہم ان کاروباروں میں اضافہ کرپٹو کے مقابلے میں نسبتاً محدود رہا۔ مالی گوشواروں میں جائیدادوں کی کرائے کی درست رقم نہیں بلکہ آمدن کی حدود درج کی گئی ہیں، اور زیادہ تر جائیدادوں کی آمدن گزشتہ برسوں کے برابر یا اس سے کم رہی۔

ٹرمپ آرگنائزیشن کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل یہ مالی گوشوارے شفافیت کے لیے کمپنی کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں اور ان کے بقول یہ صدارتی تاریخ کے جامع ترین مالی انکشافات میں سے ایک ہیں۔ دوسری جانب ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

امریکی وفاقی دفتر برائے اخلاقیات کے سابق قائم مقام سربراہ ڈان فاکس نے کہا کہ امریکی قوانین کے تحت صدر اور نائب صدر مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق بعض اخلاقی پابندیوں سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق واٹرگیٹ کے بعد آنے والے ہر صدر نے اپنے مالی معاملات اس انداز سے چلائے جیسے وہ ان پابندیوں کے تابع ہوں، جبکہ ان کے بقول ٹرمپ کے معاملے میں یہ روایت برقرار نہیں رہی۔

ڈان فاکس نے کہا کہ مستقبل میں ایسے قوانین پر غور کیا جا سکتا ہے جو صدر اور نائب صدر کی بعض سرمایہ کاریوں پر حدود مقرر کریں۔

Read Entire Article