ARTICLE AD BOX
ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے درمیان بیجنگ ایک کلیدی سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی متوقع ملاقات سے قبل چین کے ممکنہ ثالثی کردار پر عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ ایرانی سفیر کے تازہ بیان نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ بیجنگ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں اور کشیدگی میں کمی کے لیے عملی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی صورتِ حال اس اہم امریکا-چین ملاقات کو محض دوطرفہ ایجنڈے سے نکال کر ایک وسیع تر عالمی بحران سے جڑے فیصلہ کن سفارتی موڑ میں تبدیل کر رہی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات بظاہر تجارت، تائیوان، عالمی سلامتی اور معاشی تعاون جیسے روایتی موضوعات تک محدود دکھائی دیتی ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل گفتگو کا ایک بڑا حصہ ایران جنگ اور اس کے عالمی اثرات کے گرد مرکوز ہے۔
یہ پیش رفت اس ملاقات کو محض دوطرفہ سفارتی رابطے کے بجائے ایک ایسے عالمی بحران سے جڑا موقع بنا رہی ہے جس کے اثرات توانائی، سیاست اور عالمی معیشت تک پھیل چکے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کیا ہے بل کہ عالمی توانائی منڈی اور تیل کی ترسیل کے نظام کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اسی بحران نے چین کو ایک ایسی اسٹریٹجک پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ممکنہ پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
چین کے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری اسے خطے میں ایک منفرد سفارتی حیثیت فراہم کرتی ہے، جو کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
منگل کے روز چین میں تعینات ایرانی سفیر نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں واضح اشارہ دیا تھا کہ بیجنگ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا مؤقف اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ چین اس بحران میں پسِ پردہ سفارتی رابطوں کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عبدالرضا رحمانی فضلی کے مطابق چین صرف ایران کا معاشی شراکت دار نہیں بل کہ ایک ایسا سیاسی توازن بھی فراہم کرتا ہے جو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں تہران کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران جنگ کے کسی ممکنہ وقفے یا سفارتی حل پر بحث جاری ہے۔
سنٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے صدر ہنری وانگ نے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا خاتمہ امریکا اور چین دونوں کے مفاد میں ہے، کیونکہ چین کی تقریباً 40 فی صد تیل کی ضروریات اسی راستے سے پوری ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں اصل ضرورت جنگ کو روکنے اور ایک منصفانہ حل کی طرف بڑھنے کی ہے۔
ہنری وانگ نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں اس تنازع سے تھک چکے ہیں اور انہیں ایک راستے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے وہ اس بحران سے باعزت انداز میں نکل سکیں۔ ان کے مطابق چین اس عمل میں وہ سہارا فراہم کر سکتا ہے جو امن کی طرف واپسی کو ممکن بنائے، اور اگر ضرورت پڑے تو ایک مؤثر ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ادھر، برطانوی نشریاتی ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق صدر ٹرمپ کا دورۂ چین بنیادی طور پر امریکا اور چین کے درمیان نازک تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور اندرونی سیاسی دباؤ کم کرنے کی کوشش ہے، جو ایران جنگ کے معاشی اثرات کے باعث مزید بڑھ گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا کہ وہ شی جن پنگ سے امریکی کمپنیوں کے لیے چین کی منڈی کھولنے کا مطالبہ کریں گے اور یہ ان کی اولین ترجیح ہوگی۔
’رائٹرز‘ کے مطابق اس ملاقات میں ایران جنگ بھی ایک اہم موضوع ہوگا، جہاں توقع ہے کہ ٹرمپ شی جن پنگ سے ایران پر اثر انداز ہونے کا مطالبہ کریں گے، تاہم وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو اس معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز میں عالمی تیل و گیس کی ترسیل متاثر ہوئی۔ بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی جب کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔
9 سے 11 مئی کے دوران قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششیں دوبارہ سامنے آئیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات شامل تھے، جنہیں امریکا نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا، جس کے جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکا غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کر رہا ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران مقابلہ کرے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق پاکستان بدستور دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جب کہ قطر سمیت دیگر ممالک بھی رابطوں میں مصروف ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اس وقت چین کے دورے پر ہیں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ ان کے ایجنڈے پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس صورتِ حال کے باوجود اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں گے؟
ٹرمپ نے مارچ میں مجوزہ دورۂ چین اس امید پر مؤخر کر دیا تھا کہ ایران جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود امن معاہدہ سامنے نہیں آ سکا۔ امریکی صدر خود بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی انتہائی کمزور حالت میں ہے۔
امکان ہے کہ اس ملاقات میں دونوں رہنما ایسے تجارتی معاہدے بھی سامنے لائیں جنہیں ٹرمپ اپنے ملک میں سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔ تاہم ایران کا معاملہ اس ملاقات پر غالب رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر اس لیے کہ امریکا آبنائے ہرمز پر پابندی برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کے چین پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
.png)
4 hours ago
3





English (US) ·