ARTICLE AD BOX
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ایران کے ساتھ جاری جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے کہ جنگ سے جلدی سے نکل آئیں اور وہی مشکل چند سالوں بعد دوبارہ کھڑی ہو جائے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر عزم ظاہر کیا کہ وہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کو نہ روکا جاتا تو اب تک اسرائیل اور یورپ تباہ ہو چکے ہوتے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ عسکری اور سیاسی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس اب نہ بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی کوئی قیادت رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پہلے اور دوسرے درجے کی قیادت ماری جا چکی ہے، ان لوگوں نے پینتالیس ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا تھا۔
ٹرمپ نے قیادت کے خاتمے پر طنزیہ انداز میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھے لوگ تھے، اب ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ بات کس سے کریں کیونکہ ایران کی قیادت کے لیے اب کوئی تیار نہیں۔
ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں تیل سے بھرے چار سو بحری جہاز کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ جہاز وہاں سے نکل آئیں تو ایندھن کی قیمتیں بہت کم ہو جائیں گی۔
انہوں نے ایران کے سامنے دو ہی راستے رکھے کہ یا تو وہ تباہ ہو جائیں یا پھر معاہدہ کر لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی میزائل بنانے کی پچاسی فیصد صلاحیت ختم کر دی ہے اور اب تک آٹھ جنگیں ختم کرا چکا ہوں، یہ نویں جنگ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے دیگر جنگوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ویتنام میں انیس سال اور عراق میں بارہ سال گزارے جبکہ ایران میں ابھی صرف چھ ہفتے ہوئے ہیں اور لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے۔
دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان تجاویز میں مرحلہ وار امن عمل کی بات کی گئی ہے جس میں پہلے جنگ بندی کو مستحکم کرنا، پھر آبنائے ہرمز کو کھولنا اور بعد میں جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات پر بات کرنا شامل ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا سے مذاکرات میں ثالث پاکستان ہی ہوگا، ہم جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن چاہتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطوں میں کہا ہے کہ ایران سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کو تیار ہے لیکن شرط یہ ہے کہ امریکا کو اپنا دھمکی آمیز لہجہ اور رویہ بدلنا ہوگا۔
اسی طرح ایرانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے واضح کیا کہ ہم نے امریکا کے ساتھ کبھی مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی، ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اس سے ڈرتے بھی نہیں۔ اگر ہماری عزت کو خطرہ ہوا تو ہم اپنی عزت کے لیے لڑیں گے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔
.png)
1 hour ago
2





English (US) ·