ARTICLE AD BOX
امریکا اور ایران نے ان تجاویز کا جواب دیتے ہوئے مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔
شائع 27 جولائ 2026 08:54am
امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید تناؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر نے مشترکہ طور پر اہم تجاویز پیش کی ہیں، جن میں دونوں فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نو جولائی سے پہلے والی پوزیشن پر واپس آئیں۔
عرب نشریاتی ادارے ’العریبیہ‘ کے مطابق، ان تجاویز میں دو ہفتے کے لیے فوری جنگ بندی کرنے، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے کھولنے اور امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس وقت اصل تنازع آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ہے، تاہم امریکا اور ایران نے ان تجاویز کا جواب دیتے ہوئے مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ”پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں“۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ”ایران کی اولین ترجیح اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے“۔
ایرانی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ”ہم نے مفاہمتی یادداشت کے تحت 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کا اپنا وعدہ پورا کیا، لیکن اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی امریکہ نے مبینہ بحری جہازوں کے واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے کر دیے“۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے کہ مذاکرات کے دوران حملے کر کے ایران کی سفارتی کوششوں کو دھوکا دیا گیا ہے، جبکہ امریکا مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے میں بھی ناکام رہا ہے“۔
دوسری جانب امریکی حملے رکنے کے بعد ایران نے بھی امریکا کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت تک اپنے حملے روکے رکھے گا جب تک امریکی طرف سے کوئی پیش قدمی نہیں ہوتی، تاہم تہران کو امریکا کے ارادوں کے بارے میں بدستور شدید تحفظات ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان کے ڈرونز اور میزائلوں نے امریکی دفاعی نظام کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں جانب سے حملوں میں یہ وقفہ مستقل امن کے بجائے فی الحال ایک حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جبکہ پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں خطے میں معاشی اور فوجی بحران کو ٹالنے کے لیے جاری ہیں۔
.png)
1 hour ago
2





English (US) ·