ARTICLE AD BOX
بھارت کا یہ مؤقف گمراہ کن پروپیگنڈے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا ہے: ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان نے گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھارت کے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے جب کہ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ مؤقف گمراہ کن پروپیگنڈے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا ہے۔
جمعے کو اسلام آباد سے جاری بیان ہونے والے بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق بھارت کے بیان کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے، بھارت جھوٹی کہانیوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ بھارت جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ممکن ہے، جن کے تحت کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق گلگت بلتستان سے متعلق بھارت کے بیانات کا مقصد بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کو سخت قوانین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اور کشمیری عوام مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مقبوضہ علاقوں سے دستبردار ہو، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے یکطرفہ اقدامات واپس لے، سخت قوانین کا خاتمہ کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی فراہم کرے۔
ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔
اس سے قبل جمعے کو ہی بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی جانب ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومتِ انڈیا نے گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے سات جون 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد کے پاکستانی منصوبے پر پاکستان کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق انڈیا گلگت بلتستان کو جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور وہاں انتخابات کے انعقاد کو قبول نہیں کرتا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا ان تمام کوششوں کو مسترد کرتا ہے جن کے ذریعے پاکستان اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں کوئی انتظامی یا سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے۔
.png)
2 hours ago
1




English (US) ·