ARTICLE AD BOX
رکن اسمبلی سردار محمد اویس دریشک کو پنجاب اسمبلی جوڈیشل کمیٹی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا
لاہور:
پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی، جوڈیشل کمیٹی کا قیام پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11 سی کے تحت عمل میں لایا گیا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ہدایت پر جوڈیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی، رکن اسمبلی سردار محمد اویس دریشک کو پنجاب اسمبلی جوڈیشل کمیٹی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا۔ پارلیمانی لیڈر پیپلزپارٹی سید علی حیدر گیلانی، شوکت راجا، نورالامین وٹو اور چوہدری افتخار حسین چھچھر کو کمیٹی کے رکن مقرر مقرر کر دیا گیا۔ امجد علی جاوید، ذوالفقار علی شاہ، راحیلہ خادم حسین اور احمر رشید بھٹی جوڈیشل کمیٹی میں شامل ہیں۔ جوڈیشل کمیٹی پنجاب اسمبلی کے استحقاق سے متعلق معاملات کی سماعت اور تحقیقات کرے گی، کمیٹی اسپیکر کی جانب سے بھجوائے گئے استحقاقی ریفرنسز پر کارروائی کی مجاز ہوگی۔ کمیٹی شواہد اور دستاویزات طلب کرنے اور متعلقہ افراد کا مؤقف سننے کا اختیار رکھے گی۔ کمیٹی تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ اور سفارشات اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کرے گی جبکہ کمیٹی ضرورت پڑنے پر کسی دوسرے رکن پنجاب اسمبلی کو بھی شریک کر سکے گی۔ اسپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن کمیٹی کی کارروائی میں معاونت کریں گے، کمیٹی اسمبلی کے استحقاق اور پارلیمانی نظم و ضبط سے متعلق معاملات نمٹائے گی۔ پنجاب اسمبلی کی جوڈیشل کمیٹی اسمبلی کے پارلیمانی استحقاق سے متعلق مقدمات کی سماعت کی مجاز ہے، جوڈیشل کمیٹی استحقاق کی خلاف ورزی کے ریفرنسز پر قانونی کارروائی کی پابند ہے۔ جوڈیشل کمیٹی کو نوٹس جاری کرنے، شواہد طلب کرنے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل ہے، جرم ثابت ہونے پر جوڈیشل کمیٹی سزا یا جرمانہ عائد کر سکتی ہے۔ فوجداری یا دیوانی مقدمات جوڈیشل کمیٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہیں۔ اسمبلی کے استحقاق سے متعلق مقدمات میں جوڈیشل کمیٹی کو خصوصی قانونی اختیار حاصل ہے۔ ڈی پی او قصور پہلے سرکاری آفیسر ہوں گے جن کا معاملہ جوڈیشل کمیٹی میں زیر سماعت آئے گا۔
.png)
14 hours ago
1




English (US) ·