Times of Pakistan

پنجاب میں ٹریفک قوانین کے جرمانوں میں کمی، سزائیں ختم

10 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے موٹروہیکل ترمیمی بل 2026 پر دستخط کردیے جس کے ساتھ ہی ٹریفک قوانین کے جرمانوں میں کمی اور سزائیں ختم ہوگئیں۔

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے صوبائی موٹر وییکل (دوسری ترمیمی) بل 2026 پر دستخط کر دیے، جس کے تحت سخت سزاؤں میں بڑی نرمی، جرمانے کم اور قید کی سزائیں ختم کردی گئی ہیں۔

سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) عوامی جماعت ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہیں اور ٹریفک قوانین کی مد میں اضافی جرمانے مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بل میں جرمانوں اور سزاؤں میں ترمیم سے غریب افراد، موٹر سائیکل سوار اور رکشہ ڈرائیوروں کو ریلیف دیا گیا ہے اور نئے قانون کے ساتھ ہی صوبائی موٹر وہیکل (چوتھی ترمیم) آرڈیننس 2025 منسوخ ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پرانے آرڈیننس میں غریب مختلف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے غریب لوگوں پر بہت بڑا ظلم تھا، پرانے آرڈیننس میں لائسنسگ سے متعلق جرم کی سزا 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے جرمانہ اور قید کو نئے بل میں 10 ہزار سے 5 ہزار اور قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔

صوبائی موٹروہیکل بل 2026

قانون کے مطابق ون وے خلاف ورزی کی سزا 50 ہزار یا 6 ماہ قید یا دونوں تھی جبکہ نئی قانون سازی میں جرمانہ 5 ہزار اور قید ختم کر دی گئی ہے۔

صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس، غلط سمت میں گاڑی چلانے، عمر کی حد کی خلاف ورزی، فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑی استعمال کرنے اور اوور لوڈنگ جیسے  ٹریفک جرائم میں پہلے سے موجود قید اور لاکھوں روپے کے جرمانوں کو ختم یا کم کر دیا گیا ہے۔

لائسنس کی خلاف ورزی پر آرڈیننس 2025 میں 50 ہزار روپے جرمانے کی تجویز تھی جبکہ نئے بل میں یہ صرف 5 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، قید کی سزا ختم کردی گئی ہے، غلط سمت میں گاڑی چلانے پر آرڈیننس میں 6 ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانے کی دفعات تھیں، نیا بل صرف 5 ہزار روپے جرمانے کی دفعات رکھتا ہے۔

اسی طرح عمر کی حد کی خلاف ورزی پر پہلے آرڈیننس میں چھ ماہ قید اور پچاس ہزار روپے کی سزا تھی جبکہ نیا بل 10 ہزار روپے جرمانہ تجویز کرتا ہے تاہم ایسی صورت میں گاڑی ضبط کر کے مالک یا مجاز شخص کے حوالے کی جائے گی، جو  ڈرائیونگ لائسنس رکھنے کا اہل ہو۔

بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی پر پرانے آرڈیننس میں 6 ماہ قید یا 50 ہزار روپے اور سابقہ سزا کی صورت میں دو سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانے کی دفعات تھیں تاہم اب نئے بل میں 5 ہزار روپے جرمانے کی سزا ہے، گاڑی کو صرف انسپیکشن اسٹیشن تک چلانے کی اجازت ہوگی۔

پبلک سروس گاڑی میں حد سے زائد مسافر پر پہلے 6 ماہ قید یا 50 ہزار روپے کی سزا تھی لیکن اب 5 ہزار روپے جرمانہ اور خاص طور پر چھت پر سوار مسافروں یا گاڑی کے اطراف لٹکنے والوں پر یہ لاگو ہوگا۔

Read Entire Article