ARTICLE AD BOX
بھر میں ایٹمی دھماکوں کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے ’سی ٹی بی ٹی او‘ نے اس معاملے پر محتاط موقف اختیار کیا ہے۔
شائع 18 فروری 2026 09:26am
امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کرسٹوفر یو نے انکشاف کیا ہے کہ چین نے جون 2020 میں اپنی ایٹمی تجربہ گاہ لوپ نور میں ایک خفیہ زیر زمین ایٹمی دھماکا کیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قازقستان میں نصب زلزلے کی پیمائش کرنے والے آلات نے اس دھماکے کو ریکارڈ کیا تھا جس کی شدت 2.75 تھی۔
عالمی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، ایٹمی انجینئرنگ میں مہارت رکھنے والے کرسٹوفر یو نے واشنگٹن میں ہونے والی ایک حالیہ تقریب کے دوران بتایا کہ ڈیٹا کو دیکھنے کے بعد اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ یہ کوئی معمولی دھماکا یا زلزلہ ہو، بلکہ یہ زلزلہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ ایک ایٹمی تجربے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ چین نے اس دھماکے کو چھپانے کے لیے اسے ایک بڑے زیر زمین کمرے میں سرانجام دیا تاکہ زمین میں پیدا ہونے والی لہروں کی شدت کو کم کیا جا سکے اور دنیا کو پتہ نہ چل سکے۔
دوسری جانب دنیا بھر میں ایٹمی دھماکوں کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے ’سی ٹی بی ٹی او‘ نے اس معاملے پر محتاط موقف اختیار کیا ہے۔
ادارے کے سربراہ رابرٹ فلائیڈ کا کہنا ہے کہ ان کے سسٹم نے اس دن دو چھوٹے جھٹکے محسوس کیے تھے لیکن وہ اتنے معمولی تھے کہ صرف ان کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایٹمی دھماکا ہی تھا۔
ادارے کے مطابق ان کی مشینیں ایک خاص حد سے بڑے دھماکے کی ہی تصدیق کر سکتی ہیں اور یہ واقعہ اس حد سے بہت نیچے تھا۔ اس لیے فی الحال سائنسی بنیادوں پر امریکی دعوے کی مکمل تصدیق کرنا مشکل نظر آتا ہے۔
چین نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور اسے امریکا کی سیاسی چال قرار دیا ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں اور امریکا محض اپنے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہانے تراش رہا ہے۔
چین کا موقف ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہے اور امریکا خود اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھا رہا ہے۔
چین نے آخری بار باضابطہ طور پر 1996 میں ایٹمی تجربہ کیا تھا اور وہ تب سے ایٹمی تجربات پر پابندی کے عالمی معاہدے پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
اس ساری صورتحال کے پیچھے ایک بڑی وجہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے والا وہ معاہدہ ہے جو حال ہی میں ختم ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین بھی امریکا اور روس کے ساتھ مل کر ایک نئے ایٹمی معاہدے کا حصہ بنے، لیکن چین اس سے انکار کر رہا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ اس کے پاس امریکا اور روس کے مقابلے میں بہت کم ایٹمی ہتھیار ہیں، اس لیے اسے اس معاہدے میں شامل کرنا درست نہیں۔
دوسری طرف امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ چین تیزی سے اپنے ایٹمی ہتھیار بڑھا رہا ہے اور 2030 تک اس کے پاس ایک ہزار سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈز ہو سکتے ہیں۔
اس کھینچا تانی نے دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہونے کا خوف پیدا کر دیا ہے۔
.png)
3 hours ago
1







English (US) ·