ARTICLE AD BOX
وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی سیف سٹی پروجیکٹ فیز ٹو کی منظوری دے دی جس کے تحت شہر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 300 سے زائد اسمارٹ کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی سیف سٹی پراجیکٹ فیز ٹو کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس جاوید اوڈھو اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ عوام کی سلامتی اور جرائم کے تدارک کے لیےانتہائی ضروری ہے، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت و تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنائیں گے، منصوبے سے شہر کی سیکیورٹی، نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا، ٹیکنالوجی کا موثر استعمال جدید دور کا اہم تقاضہ ہے۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا کہ سیف سٹی فیز ٹو کے تحت شہر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 300 سے زائد اسمارٹ کیمرے نصب کیے جائیں گے، 870 عمومی نگرانی، 1,300 آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن اور چہرے کی شناخت سے لیس ہوں گے، 80 ٹریفک نفاذ ،56 موبائل سرویلنس یونٹس ،8 ٹریفک سگنل مانیٹرنگ کے لیے ہوں گے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کیمرے کراچی کے مختلف اضلاع میں نصب کیے جائیں گے، ضلع جنوبی میں 322 کیمرے، ضلع شرقی 220، کورنگی 27، کیماڑی17، ملیر16 اور ضلع غربی میں 1 کیمرا نصب کیا جائے گا، منصوبے کی مجموعی لاگت 9.98 ارب روپے ہے۔ منصوبہ کی تکمیل آئندہ 12 ماہ کے دوران متوقع ہے جبکہ منصوبے کا باقاعدہ آغاز مئی 2026 میں کیا جائے گا، منصوبے میں 9 پوائنٹس آف پریزنس، سولر اور جنریٹر بیک اپ، اسمارٹ سرویلنس ٹاور، 50 پبلک پینک بٹن، 8 رسپانس گاڑیاں اور 10 سرویلنس ڈرونز بھی شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ عوامی تحفظ اور قومی سلامتی میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ اداروں کو کام تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بروقت مکمل ہونا چاہیے، تاخیرسے لاگت میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، وزیراعلیٰ نے سندھ سیف سٹی اتھارٹی کو تکنیکی عملے کی شفاف اور میرٹ پر بھرتی کی بھی منظوری دے دی۔ اجلاس میں حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد میں بھی سیف سٹی منصوبے شروع کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کراچی کے علاوہ دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں 780 کیمرے نصب کرنے کے منصوبے پر 3.15 ارب روپے لاگت آئے گی، صوبے کے تمام سیف سٹی منصوبوں کو ایک مربوط نظام یعنی سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کےذریعے چلایا جائے، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہی مؤثر سیکیورٹی کی ضمانت ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد گار ثابت ہوگا بلکہ ٹریفک مینجمنٹ اور ہنگامی خدمات کو بھی بہتر بنائے گا، سندھ حکومت کا کراچی کو ایک جدید، پُرامن اور مضبوط معاشی حب بنانے کا عزم ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔
.png)
12 hours ago
1





English (US) ·