Times of Pakistan

کراچی میں قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 15 ہوگئیں

1 hour ago 3
ARTICLE AD BOX

شہر کے مختلف مقامات سے ملنے والی لاشوں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ہلاکتیں شدید گرمی اور لو لگنے کے باعث ہوئی ہیں۔

اپ ڈیٹ 04 مئ 2026 07:14pm

کراچی میں گرمی کی لہر انسانی جانیں نگلنے لگی، مختلف علاقوں سے آج مزید 9 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد 2 روز میں قیامت خیز گرمی سے اموات کی تعداد 15 ہوگئیں۔

چھیپا اور ریسکیو ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات سے ملنے والی ان لاشوں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ہلاکتیں شدید گرمی اور لو لگنے کے باعث ہوئی ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق شدید گرمی سے جاں بحق ہونے والوں میں کلفٹن بوٹ بیسن سپر مارکیٹ کے قریب سے ایک 60 سالہ شخص کی لاش ملی، لیاقت آباد نمبر 10 پل کے نیچے سے 50 سالہ شخص مردہ حالت میں پایا گیا جب کہ سپر ہائی وے جمالی پل، شیل پمپ کے قریب سے 45 سالہ شخص کی لاش برآمد ہوئی۔

ادھر سرجانی ٹاؤن اسکیم 33 کے قریب سے ملنے والی لاش کی شناخت 50 سالہ در محمد ولد بابر نواز کے نام سے ہوئی جب کہ بلدیہ ٹاؤن اسپارکو روڈ، طیبہ مسجد کے قریب سے 55 سالہ عبدالودود ولد علی کی لاش ملی جب کہ نارتھ کراچی میں نمازی دوران نماز گر کر دم توڑ گیا۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دیگر لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ضابطے کی کارروائی کے بعد انہیں سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب کراچی میں گرمی کا 15 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، جہاں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا جب کہ گرم اور خشک ہواؤں کے باعث شہر میں لو جیسی کیفیت محسوس کی گئی۔

کراچی میں سورج آگ برسانے لگا، آج سال کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جہاں درجہ حرارت 44.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ اور ہوا میں نمی کا تناسب انتہائی کم رہا، جس کے باعث موسم مزید خشک ہو گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری ہوائیں بند ہونے اور بلوچستان کی گرم ہوائیں چلنے کے باعث شہر میں شدید گرمی اور حبس کی صورت حال ہے، جس نے شہریوں کو بلبلا کر رکھ دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

چیف میٹرولوجسٹ انجم نذیر ضیغم کا کہنا ہے کہ کل سے درجہ حرارت میں کمی کا امکان ہے اور پارہ 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے تاہم کراچی میں بارش کا کوئی امکان نہیں لیکن 7 مئی سے سندھ میں ایک اور ہیٹ ویو کا امکان ہے، جس کے اثرات کے باعث 13 مئی کے بعد کراچی میں دوبارہ درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔

سڑکوں پر ٹریفک کی روانی معمول سے کم ہے جب کہ شہری ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے سر ڈھانپ کر نکلنے پر مجبور ہیں۔

طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوپہر کے اوقات میں بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

Read Entire Article