Times of Pakistan

کسی بھی صورتحال کیلئے تیار ہیں، دشمنی کرنے والوں کو سخت جواب دیا جائے گا، ایران

19 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

دنیا کو بربریت، تسلط اور جارحیت کے خلاف ایران کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی، اسماعیل بقائی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان  اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ایران کے خلاف دشمنی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ دنیا کو بربریت، تسلط اور جارحیت کے خلاف ایران کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی، ورنہ طاقتور ممالک دنیا کو لاقانونیت اور محکومی کی طرف دھکیل دیں گے۔

اسماعیل بقائی نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 28 فروری کو ایران پر مسلط کی گئی جنگ صرف زمین یا وسائل کیلئے نہیں بلکہ یہ اس بات کا تعین کرنے کی کوشش ہے کہ مستقبل میں اچھائی اور برائی کے معیارات کیا ہوں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران پر حملہ کرنے والے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر فخر کرتے ہیں اور پرامن ایرانی عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حملہ آور طاقتیں شہری مقامات، حتیٰ کہ خواتین کے اسپورٹس ہالز پر بھی میزائل حملے کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ دوسری جانب ایرانی عوام اور افواج ہر ممکن حد تک بے گناہ جانوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال جھوٹ پھیلانے والوں اور اپنے وطن کا دفاع کرنے والوں کے درمیان جنگ ہے، اور ایسے وقت میں خاموش رہنا بھی برائی کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔

To every decent human being—regardless of religion, ethnicity, nationality, race, or any other distinction,

To Muslims, Jews, Christians, Sikhs, Hindus, Buddhists, and all others of faith,

And to those who follow no formal religion but hold deeply to the universal values of…

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) May 12, 2026

انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جلد بھارت روانہ ہوں گے جہاں وہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ایران کی جانب سے یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان سفارتی و عسکری تناؤ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

Read Entire Article