ARTICLE AD BOX
کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) کے چار ارکان کو گرفتار کیا ہے جو ملک میں داخل ہو کر مبینہ طور پر تخریبی کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ واقعہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ کویتی وزارتِ خارجہ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ اس واقعے میں کویتی فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق کویتی سرکاری خبر رساں ایجنسی کونا نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے چار افراد کو گرفتار کیا جو ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) سے تعلق رکھتے تھے اور مبینہ طور پر ملک میں خفیہ طور پر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
کویت کی وزارت خارجہ نے ایک سخت باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (پاسدارانِ انقلاب) سے منسلک ایک مسلح گروہ نے کویت کے اہم اسٹریٹجک علاقے بوبیان جزیرہ میں دراندازی کی کوشش کی، جس کا مقصد مبینہ طور پر دشمنی پر مبنی کارروائیاں انجام دینا تھا۔
بیان کے مطابق یہ گروہ یکم مئی کو ایک ماہی گیری کشتی کے ذریعے کویتی حدود میں داخل ہوا، جہاں اس کا کویتی مسلح افواج کے اہلکاروں کے ساتھ سامنا ہوا۔ اس جھڑپ کے دوران ایک کویتی فوجی زخمی ہوا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے چار مبینہ ارکان کو گرفتار کرلیا۔
کویتی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو ریاست کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کا چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں اسے علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔
کویت نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور دشمنی پر مبنی سرگرمیوں کو بند کرے جو خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں۔ ساتھ ہی کویت نے واضح کیا کہ وہ پرامن ہمسائیگی کے اصولوں پر قائم ہے مگر اپنی سرزمین کے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ کویت اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے، جس کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک، منصوبہ بندی اور ممکنہ روابط کا تعین کیا جا سکے۔
.png)
3 weeks ago
22




English (US) ·