Times of Pakistan

کیا مچھر بھی ملیریا کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟ نئی تحقیق نے سب کو چونکا دیا

9 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

شائع 24 اپريل 2026 09:31am

ملیریا ایک خطرناک بیماری ہے جو مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ اب سائنسدان ایک نیا طریقہ آزما رہے ہیں جس میں مچھروں کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ وہ بیماری نہ پھیلا سکیں۔

ماہرین کے مطابق، یہ طریقہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر ہے۔ عام طور پر ملیریا سے بچاؤ کے لیے مچھروں کو مارنے یا ان سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اس نئی ٹیکنالوجی میں مچھروں کی جینیاتی ساخت کو تبدیل کر کے انہیں بیماری پھیلانے کے قابل ہی نہیں رہنے دیا جاتا۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ٹرینڈز ان پیراسائٹولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ جین ڈرائیو ٹیکنالوجی ایک ایسی جدید ایجاد ہے جو کسی مخصوص آبادی میں ٹارگٹڈ جینیاتی خصوصیات کو تیزی سے پھیلا سکتی ہے اور یوں ملیریا سمیت دیگر مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ماہر ڈاکٹر شری ندھی کے مطابق، اس حکمت عملی کا مقصد اینوفیلس مچھر کی آبادی میں تبدیلی لانا ہے، جو اس بیماری کے اصل ذمہ دار ہیں۔۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کو ملیریا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جدید طریقے کے طور پر آزمایا جا رہا ہے تاکہ یا تو انہیں اس قابل نہ چھوڑا جائے کہ وہ پیراسائٹ کو اپنے ساتھ لے جا سکیں یا پھر ان کی افزائشِ نسل کی صلاحیت کو کم کر دیا جائے۔‘

سائنسدان اس مقصد کے لیے دو اہم طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ پہلے طریقے میں مچھروں کو اس طرح تبدیل کیا جاتا ہے کہ وہ ملیریا پھیلانے والے پیراسائٹ کو اپنے جسم میں پروان نہیں چڑھا سکتے۔ اس طرح جب یہ مچھر افزائش نسل کرتے ہیں تو یہ خصوصیت اگلی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے، جس سے بیماری کا پھیلاؤ کم ہو جاتا ہے۔

دوسرا طریقہ ”جین ڈرائیو“ کہلاتا ہے، اس تکنیک کے ذریعے مچھروں کی آبادی میں صرف نر مچھروں کی تعداد بڑھائی جاتی ہے۔ چونکہ صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہے، اس لیے مادہ مچھروں کی کمی سے بیماری کا پھیلاؤ خود بخود کم ہو جائے گا۔

افریقہ سمیت مختلف خطوں میں ہونے والے ابتدائی تجربات کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ پیتھوجینز اینڈ گلوبل ہیلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025اور 2026 کے دوران آکسی ٹیک نامی ادارے نے ایسے نر مچھر چھوڑے جن کی وجہ سے مادہ مچھر جوان ہونے سے پہلے ہی مر جاتی ہیں۔

اس سے قبل اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے زیکا اور ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کی آبادی میں 95 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

افریقہ کے مختلف حصوں میں ہونے والے ابتدائی فیلڈ ٹرائلز کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ کنٹرولڈ ماحول میں جینیاتی مچھر چھوڑنے کے بعد ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

روایتی طریقے جیسے مچھر دانیاں اور ادویات اب بھی مؤثر ہیں، لیکن وقت کے ساتھ مچھروں اور جراثیم میں ان کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں جینیاتی تبدیلی پر مبنی یہ طریقہ کیمیائی ادویات پر انحصار کم کرتا ہے اور جڑ سے مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جہاں یہ ٹیکنالوجی امید کی کرن ہے، وہاں کچھ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کو اس بات کی فکر ہے کہ مچھروں کی تعداد میں کمی سے ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں کو فطرت میں چھوڑنے کے حوالے سے اخلاقی اور قانونی سوالات بھی موجود ہیں۔

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر ملیریا کے خلاف جنگ میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ملیریا کے خلاف کوئی تنہا حل نہیں ہیں، لیکن موجودہ احتیاطی تدابیر (جیسے مچھر دانیاں اور ادویات) کے ساتھ مل کر اس عالمی مرض کے خاتمے میں اہم ترین ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔

Read Entire Article