ARTICLE AD BOX
دنیا کے بڑے شہر آبادی بڑھنے سے نہیں، ناقص منصوبہ بندی سے تباہ ہوتے ہیں۔ لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور دبئی بھی ہجرتوں کے مراکز ہیں، مگر وہاں حکمران سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، رہائشی منصوبوں اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرتے ہیں۔ کراچی میں بدقسمتی سے ایسا کبھی سنجیدگی سے نہیں کیا گیا۔
کراچی کے مسائل کا ذکر چھیڑ دیں، چند ہی لمحوں میں کوئی نہ کوئی یہ فیصلہ سنا دیتا ہے ”کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کر دیا۔“ یہ جملہ اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اب بعض لوگوں کے نزدیک یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟
اگر غیر مقامی افراد ہی کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں تو پھر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہر چلانے والے ادارے کہاں تھے؟ سڑکیں بنانا، پانی فراہم کرنا، سیوریج کا نظام چلانا، ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا، کچرا اٹھانا اور شہری منصوبہ بندی کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا یہ کام بھی ان لوگوں کے سپرد تھے جو روزگار یا بہتر زندگی کی تلاش میں کراچی آئے تھے؟
حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی تاریخ ہی ہجرت کی تاریخ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مہاجر یہاں آ بسے۔ بعد ازاں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اندرون سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ اس شہر کا رخ کرتے رہے۔ انہی لوگوں نے فیکٹریوں میں کام کیا، بندرگاہ کو افرادی قوت دی، ٹرانسپورٹ چلائی، کاروبار کھڑے کیے اور معیشت کا پہیہ گھمایا۔ اگر کراچی نے پاکستان کے معاشی دارالحکومت کا مقام حاصل کیا تو اس میں مقامی اور غیر مقامی دونوں کا حصہ شامل ہے۔
دنیا کے بڑے شہر آبادی بڑھنے سے تباہ نہیں ہوتے، ناقص منصوبہ بندی سے تباہ ہوتے ہیں۔ لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور دبئی بھی ہجرتوں کے مراکز ہیں، مگر وہاں حکمران آنے والی آبادی کے مطابق سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، رہائشی منصوبوں اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرتے ہیں۔ کراچی میں بدقسمتی سے ایسا کبھی سنجیدگی سے نہیں کیا گیا۔
شہر پھیلتا گیا مگر انفرااسٹرکچر سکڑتا گیا۔ آبادی بڑھتی گئی مگر پانی کا نظام وہی پرانا رہا۔ گاڑیاں بڑھتی گئیں مگر پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہوتی گئی۔ بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہوتی رہیں مگر نکاسی آب کے منصوبے کاغذوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معمولی بارش بھی کراچی کو مفلوج کر دیتی ہے۔
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کراچی قومی خزانے میں اربوں روپے کا حصہ ڈالتا ہے تو اسے پاکستان کا معاشی انجن قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب مسائل کا ذکر ہو تو سارا ملبہ ”غیر مقامی افراد“ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا حکمران، منصوبہ ساز اور ادارے اس پوری کہانی میں کہیں موجود ہی نہیں۔
سندھ حکومت کئی برسوں سے مختلف شکلوں میں کراچی کے انتظامی معاملات کی بنیادی ذمہ دار رہی ہے۔ پانی، سیوریج، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، شہری منصوبہ بندی اور دیگر اہم شعبے براہ راست یا بالواسطہ صوبائی اداروں کے ماتحت رہے ہیں۔ اگر شہر میں پانی چوری ہو رہا ہے، غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں، کچرے کے پہاڑ کھڑے ہیں اور سیوریج کا نظام ناکام ہے تو سوال یہ بنتا ہے کہ ذمہ دار ادارے کہاں تھے؟
بلدیاتی نظام کی حالت بھی کسی راز سے کم نہیں۔ اختیارات کبھی دیے جاتے ہیں، کبھی واپس لے لیے جاتے ہیں۔ وسائل محدود ہیں اور سیاسی رسہ کشی الگ جاری رہتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ شہری آج بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کے علاقے کی ٹوٹی سڑک، ابلتا گٹر یا جمع کچرا آخر کس کی ذمہ داری ہے۔
کراچی شاید دنیا کے ان چند شہروں میں شامل ہے جہاں ایک مسئلے کے کئی مالک اور حل کا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ملتا۔
اصل مسئلہ آبادی نہیں، منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ کراچی کیوں آئے، سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے ان کے آنے کے لیے تیاری کی؟ کیا نئے رہائشی علاقوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں؟ کیا ماس ٹرانزٹ سسٹم وقت پر بنایا گیا؟ کیا پانی کے نئے ذرائع تلاش کیے گئے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر تمام ذمہ داری غیر مقامی افراد پر ڈال دینا حقیقت سے فرار کے سوا کچھ نہیں۔
اس بحث کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ جب مسائل کا ذمہ دار کسی مخصوص زبان، نسل یا علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قرار دیا جاتا ہے تو مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی تقسیم مزید گہری ہو جاتی ہے۔ کراچی ماضی میں اس کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔
شہر کو نقصان اگر کسی نے پہنچایا ہے تو وہ غیر قانونی تعمیرات، کمزور ادارے، سیاسی مداخلت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ناقص منصوبہ بندی اور جواب دہی کے فقدان نے پہنچایا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان عوامل پر کم اور الزام تراشی پر زیادہ بات ہوتی ہے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ آسان جوابات کے بجائے مشکل سوالات پوچھے جائیں۔ کراچی کو کس نے تباہ کیا؟ وہ مزدور جو روزی کی تلاش میں یہاں آیا؟ وہ رکشہ ڈرائیور جو اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے؟ یا وہ نظام جو دہائیوں تک بڑھتے ہوئے مسائل کو نظر انداز کرتا رہا؟
کراچی کی کہانی ہجرت کی نہیں، حکمرانی کی ناکامی کی کہانی ہے۔ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک الزام بدلتے رہیں گے مگر شہر کے مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
.png)
10 hours ago
1




English (US) ·