Times of Pakistan

کیا گیلے کپڑے سے سر ڈھانپنا ہیٹ ویو سے بچا سکتا ہے؟ جانیے ڈاکٹر کی رائے

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

شائع 30 اپريل 2026 12:59pm

شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر نے عام انسان کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور ایسے میں لوگ تپتی دھوپ سے بچنے کے لیے مختلف دیسی طریقے اپنا رہے ہیں۔ ان میں سب سے عام طریقہ سر پر گیلا دوپٹہ، رومال یا سوتی کپڑا لپیٹنا ہے جو ہمیں اکثر سڑکوں پر چلنے والے اور مزدوروں کے سر پر نظر آتا ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ طریقہ واقعی ہمیں لو لگنے یا ہیٹ اسٹروک جیسی خطرناک صورتحال سے بچا سکتا ہے؟ ماہرین صحت کے مطابق یہ طریقہ کچھ حد تک تو فائدہ مند ہے لیکن اسے مکمل تحفظ سمجھ لینا ایک بڑی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق بچوں کی ماہر اور نومولود بچوں کی معالج منی پال اسپتال گوا کی ڈاکٹر پریتی پریرا اس بارے میں سائنسی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ گیلا کپڑا بخارات بننے کے عمل کے ذریعے جلد کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

جیسے جیسے پانی خشک ہوتا ہے وہ آپ کے جسم کی حرارت کو اپنے ساتھ کھینچ لیتا ہے، جس سے سطح کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے اور عارضی طور پر سکون محسوس ہوتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کام کرتا ہے جیسے انسانی جسم کو پسینہ آتا ہے۔

ڈاکٹر پریرا نے خبردار بھی کیا کہ ہیٹ ویو میں یہ طریقہ مکمل علاج نہیں ہے کیونکہ جب ہوا میں نمی کا تناسب یا نمی بہت زیادہ ہو تو پانی کے خشک ہونے کا عمل سست پڑ جاتا ہے اور اس طرح ٹھنڈک کا یہ اثر بھی ختم ہو جاتا ہے۔

عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ شاید گیلا کپڑا سر پر رکھنے سے لو نہیں لگے گی، تاہم طبی ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

ڈاکٹر پریرا کے مطابق یہ طریقہ ہیٹ اسٹروک کو نہیں روک سکتا، جو کہ ایک ایسی طبی ہنگامی صورتحال ہے جس میں جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا جاتا ہے اور جسم خود کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان گیلے کپڑے کی وجہ سے خود کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔ اس سے انسان کو جھوٹی تسلی مل سکتی ہے کہ گرمی یا دھوپ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اس دھوکے میں وہ پانی پینا یا سائے میں آرام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

اکثر لوگ اس خوف سے بھی گیلے کپڑے کا استعمال نہیں کرتے کہ کہیں انہیں زکام یا فلو نہ ہو جائے۔ اس پر وضاحت دیتے ہوئے ڈاکٹر پریرا کہتی ہیں کہ یہ طریقہ نزلہ یا فلو کا باعث نہیں بنتا کیونکہ یہ بیماریاں وائرس سے پھیلتی ہیں نہ کہ پانی یا نمی سے۔

البتہ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ زیادہ دیر تک گیلا کپڑا سر پر رکھنے سے کچھ لوگوں کو سر درد، بے چینی یا سائنس کی تکلیف ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی اگر کپڑا صاف نہ ہو تو جلد اور سر کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ صحت مند افراد جو دھوپ میں کام کرتے ہیں وہ اس طریقے کو اپنا سکتے ہیں، لیکن بوڑھے افراد، چھوٹے بچے، دائمی مریض اور کمزور قوت مدافعت والے لوگوں کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔

اگر آپ یہ طریقہ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر ہدایت دیتی ہیں کہ ہمیشہ صاف اور ٹھنڈا پانی استعمال کریں، بہت زیادہ برف والا پانی نہ لیں اور جیسے ہی کپڑا خشک ہونے لگے اسے دوبارہ گیلا کریں بجائے اس کے کہ اسے گھنٹوں سر پر لٹکائے رکھیں۔

گرمی کی لہر سے بچنے کا بہترین حل صرف ایک گیلا کپڑا نہیں بلکہ ایک مکمل حکمت عملی ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی تنظیمیں مشورہ دیتی ہیں کہ کثرت سے پانی پیئیں، دوپہر 12 سے شام 4 بجے تک بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کریں، ہلکے رنگ کے اور ہوا دار کپڑے پہنیں اور جتنا ممکن ہو سائے یا ٹھنڈی جگہوں پر رہیں۔

یاد رکھیں کہ گیلا دوپٹہ ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے صرف ایک اضافی مدد ہے، اصل بچاؤ پانی پینے اور احتیاط کرنے میں ہی ہے۔

Read Entire Article