ARTICLE AD BOX
بی سی سی آئی کے مطابق کئی دہائیوں بعد ویبہو سوریاونشی جیسا کم عمر اور غیر معمولی ٹیلنٹ سامنے آیا ہے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ نے 15 سالہ نوجوان کرکٹر ویبھو سوریاونشی کے ساتھ ان کے والدین کو بھی آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دورے پر سفر کرنے کی اجازت تھی، جس پر اب بورڈ کی جانب سے باقاعدہ وضاحت بھی سامنے آ گئی ہے۔
اس انوکھے اور تاریخی فیصلے کے حوالے سے بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے بتایا کہ سینئر لیول پر کسی بھی نیشنل ٹیم میں اتنی کم عمر کا کھلاڑی شامل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ویبھو کی عمر صرف پندرہ سال ہے اور وہ ابھی اسکول کے آخری سال میں ہیں، جبکہ قومی ٹیم کے باقی تمام کھلاڑی اور مینجمنٹ بالغ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے کھلاڑیوں کے ماحول میں ایک بچے کو ذہنی طور پر پرسکون رکھنے اور نئے ماحول سے ہم آہنگ کرنے کے لیے والدین کا ساتھ ہونا انتہائی ضروری سمجھا گیا تاکہ وہ خود کو آرام دہ محسوس کر سکیں۔
حکام کا ماننا ہے کہ اس اہم اقدام سے نوجوان کھلاڑی کی حفاظت بھی یقینی ہو سکے گی اور ان کی کم عمری سے جڑے کئی مسائل کو کم کرنے میں مدد ملے گی، بالکل اسی طرح جیسے اسکول کے دوروں پر بچوں کے ساتھ کسی بڑے کا ہونا لازمی ہوتا ہے، اسی لیے بورڈ نے والدین کے سفر اور قیام کے تمام اخراجات خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس موقع پر ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بورڈ نے واضح کیا کہ کئی دہائیوں پہلے سچن ٹنڈولکر ساڑھے سولہ سال کی عمر میں نیشنل ٹیم کا حصہ بنے تھے اور اب اتنے عرصے بعد کوئی ایسا غیر معمولی ٹیلنٹ سامنے آیا ہے، اس لیے بورڈ اس بچے کی ذہنی و جسمانی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا۔
واضح رہے کہ پندرہ سالہ ویبھو سوریاونشی کو بھارتی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ ان کی اس حیران کن اور غیر معمولی کارکردگی کو دیکھ کر کیا گیا ہے جس نے سب کو حیران کر دیا تھا۔
انہوں نے انڈین پریمیئر لیگ کے سال 2026 کے سیزن میں راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے محض 16 میچوں میں776 رنز بنائے، جس پر انہیں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز، موسٹ ویلیو ایبل پلیئر اور ایمرجنگ پلیئر سمیت 5 بڑے ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ان کی اسی جارحانہ اور شاندار بیٹنگ کے باعث سلیکٹرز نے انہیں جون اور جولائی میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔
.png)
2 hours ago
4





English (US) ·