ARTICLE AD BOX
یہ مفاہمت کی یادداشتیں ملک میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی راہیں بھی ہموار کرتی ہیں۔
پاکستان کی فارماسوٹیکل کمپنیوں نے چینی فرموں کے ساتھ 10 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جس سے ادویات کے خام مال کی مقامی سطح پر تیاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان معاہدوں سے ویکسین کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے باہمی تعاون قائم کرنے میں مدد ملے گی۔
وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بڑے معاہدوں میں یونیکم فارماسوٹیکل پاکستان اور چین کے ’ژنژو‘ گروپ کے درمیان تقریباً 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی شراکت داری شامل ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر ادویات سازی کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس منصوبے سے اہم طبی خام مال بشمول ’اومیپرازول اے پی آئی‘ کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی، جس کا تقریباً 95 فیصد حصہ اب تک پاکستان میں درآمد کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی اور ادویات کی مقامی فراہمی میں بہتری آئے گی۔
ایک اور بڑا معاہدہ لکی کور گروپ اور چینی شراکت داروں کے درمیان ہوا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کو مزید وسعت ملے گی۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے اسے پاکستان کی فارماسوٹیکل صنعت اور صحت کے شعبے، خاص طور پر خام مال کی مقامی تیاری کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔
وزیر صحت نے کہا کہ یہ وہ دن تھا جس کا پاکستان کو کئی سالوں سے انتظار تھا اور صحت کے شعبے میں خود انحصاری صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تزویراتی صنعتی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر خام مال کی پیداوار کے آغاز سے ادویات کی قیمتوں اور طویل مدتی فراہمی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
تقریب میں مرغیوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان اس وقت سالانہ تقریباً 45 لاکھ ڈالر مالیت کی پولٹری ویکسین درآمد کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت بچوں کو 13 بیماریوں کی ویکسین مفت فراہم کر رہا ہے، لیکن عالمی سطح پر ویکسین کی سبسڈی کے انتظامات 2030 تک ختم ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین اپنے مالی وسائل سے خریدنی پڑے گی جس کے لیے سالانہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس لیے حکومت 2030 سے پہلے ویکسین کی مقامی تیاری کی صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ بیرونی سپلائی چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔
کرونا وبا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ اموات کو کم کرنے میں ویکسین نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، اور کینسر جیسی بیماریوں کے لیے مستقبل میں آنے والی ویکسینز صحت کے شعبے کے نتائج کو مزید بہتر بنا سکتی ہیں۔
اس تقریب کا انعقاد وزارت قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ون اسٹیشن چائنا ڈیسک اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کے دفتر کے تعاون سے کیا گیا تھا۔
.png)
6 hours ago
3





English (US) ·