Times of Pakistan

اسرائیل کا حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز کو شہید کرنے کا دعویٰ

1 hour ago 3
ARTICLE AD BOX

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان میں حالیہ فضائی حملوں کے دوران حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں، جب کہ بیروت حملے میں ایک اعلیٰ عہدیدار کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے تاحال اسرائیل کے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسرائیلی اخبار ’ٹائم آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ لبنان میں گزشتہ روز کیے گئے فضائی حملوں میں حزب اللہ کے دو اہم کمانڈرز مارے گئے ہیں۔

فوجی بیان کے مطابق شہید ہونے والوں میں محمد علی بازی شامل ہیں، جو حزب اللہ کے نصر ریجنل ڈویژن میں انٹیلی جنس کے سربراہ تھے، جب کہ حسین حسن رمانی حزب اللہ کے فضائی دفاعی یونٹ کے سربراہ تھے۔

آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا کہ دونوں کمانڈرز اسرائیلی فوج اور شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث تھے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق 16 اپریل کو لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 220 سے زائد حزب اللہ ارکان کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جنہیں اسرائیل اپنی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز بیروت کے جنوبی مضافات میں کیے گئے حملے میں حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کے کمانڈر احمد علی بلوط کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بیروت کے جنوبی علاقے میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ جنگ بندی کے بعد لبنانی دارالحکومت بیروت میں یہ پہلا بڑا اسرائیلی حملہ تھا۔ تاحال حزب اللہ نے احمد علی بلوط کی شہادت کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اس کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی دہشت گرد محفوظ نہیں اور جو بھی اسرائیل کے لیے خطرہ بنے گا، وہ اپنی جان خطرے میں ڈالے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ احمد بلوط کو یقین تھا کہ بیروت میں اسے استثنیٰ حاصل ہے، مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان کے ساتھ ساتھ غزہ میں بھی حماس کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، باوجود اس کے کہ دونوں علاقوں میں امریکی ثالثی میں جنگ بندی نافذ ہے۔

واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کے بعد اپریل میں جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم دونوں جانب سے کارروائیاں مکمل طور پر بند نہیں ہو سکیں۔

Read Entire Article