Times of Pakistan

امریکا نے ایران میں پھنسا اپنا پائلٹ کیسے ڈھونڈا؟

5 days ago 1
ARTICLE AD BOX

شائع 05 اپريل 2026 12:26pm

ایران میں گرنے والے امریکی ایف-15ای طیارے کے عملے کے رکن کو نکالنے کے لیے کیے گئے پیچیدہ ریسکیو آپریشن کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس میں درجنوں طیاروں، اسپیشل فورسز اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں گرنے والے امریکی ایف-15ای طیارے کے ایک عملے کے رکن کو بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا، جس میں سیکڑوں اہلکار اور جدید جنگی وسائل شامل تھے۔

رپورٹس کے مطابق ہتھیاروں کے نظام کے ماہر (ویپن سسٹمز آفیسر) طیارہ گرنے کے بعد ملبے سے دور ایک اونچی پہاڑی پر چھپ گیا اور اس نے ایمرجنسی بیکن فعال کر دیا، جس کے ذریعے اس کا مقام معلوم کیا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس ریسکیو مشن میں درجنوں طیارے شریک تھے جبکہ اسپیشل کمانڈو فورسز اور بھاری فضائی کور بھی فراہم کیا گیا۔ آپریشن میں ہیلی کاپٹرز، جنگی طیارے، سائبر، خلائی اور انٹیلیجنس صلاحیتیں بھی استعمال کی گئیں۔

مزید رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی طیاروں نے ایرانی قافلوں کو نشانہ بنایا تاکہ انہیں زخمی اہلکار کے مقام کے قریب آنے سے روکا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اس دوران زمینی سطح پر جھڑپوں کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اس کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

نیویارک ٹائمز اور فوکس نیوز کے مطابق آپریشن کے دوران کچھ امریکی طیاروں کو خود ہی تباہ کرنا پڑا، جن میں دو خراب ٹرانسپورٹ طیارے بھی شامل تھے جو ایران کے ایک دور دراز اڈے پر پھنس گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق زخمی اہلکار گرفتاری سے بچتے ہوئے 36 گھنٹے سے زائد وقت تک چھپا رہا، جس کے بعد اسے بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

فوکس نیوز کے مطابق اس ریسکیو آپریشن کے دوران متعدد امریکی فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے، جبکہ اس پورے مشن کو انتہائی پیچیدہ اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

Read Entire Article