ARTICLE AD BOX
امریکی افواج نے اپنے جدید ترین اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران پر رات گئے شدید فضائی اور میزائل...
امریکی افواج نے اپنے جدید ترین اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران پر رات گئے شدید فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔ جس کے جواب میں ایران نے بھی بحرین میں امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے کی جانے والی اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے ایک باقاعدہ بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف یہ دفاعی حملے امریکی صدر کی ہدایت پر اپنے دفاع میں کیے۔
سینٹرل کمانڈ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ مشن ایران کے خلاف بلااشتعال متناسب ردعمل ہے اور اب یہ فضائی حملے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ان حملوں میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کے مختلف حصوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایرانی اور روسی میڈیا کے مطابق ایرانی صوبے ہرمزگان کے مشرقی علاقوں، ساحلی شہر سیریک، بندر عباس اور ایرانی جزیرے قشم سمیت آبنائے ہرمز کے ارد گرد چھ دھماکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملوں سے سیریک میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا ہے اور دو واٹر ٹینک بھی تباہ ہوئے ہیں، تاہم اب جنوبی ایران میں صورتحال اطمینان بخش ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی ان امریکی حملوں کا فوری اور سخت جواب دیا ہے۔
ایرانی فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی جنوبی ایران میں امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے اور ہم نے خطے میں بعض امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اس جوابی کارروائی کے تحت ایران نے بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ یعنی پانچویں بحری بیڑے پر ڈرون حملہ کیا ہے، جبکہ عرب اور روسی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران نے جم کے علاقے میں امریکا کا ایک انتہائی مہنگا اور جدید ایم کیو نائن ڈرون بھی تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واشنگٹن کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی جارحیت برقرار رہی تو اس کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
اس سنگین فوجی ٹکراؤ کے بعد دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں لیکن حیران کن طور پر سفارتی دروازے اب بھی کھلے دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمارا انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا اور ہم نے اس کا جواب دیا جو بہت مضبوط اور طاقتور ہے، ایران کو جواب دینا بہت ضروری تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان تازہ حملوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جاری امن ڈیل پر کوئی برا اثر نہیں پڑا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیل کے معاملے پر ابھی کچھ نہیں بدلا اور ایران سے ڈیل اب بھی قریب ہے۔
اسی سلسلے میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران سے ڈیل اگلے ہفتے ممکن ہے، اور ایسا بھی ہو سکتا ہے اس میں کئی ماہ بھی لگ جائیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران سے معاہدے پر دو سے تین دن میں دستخط ہو سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، ایرانی قیادت نے امریکی حملوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان میں امریکا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ میں شکست کے باوجود امریکا ہمارے عزم کو آزما رہا ہے، اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو، ہماری طاقتور افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی کیونکہ خلیج فارس کی تاریخ مداخلت کے عبرتناک انجام سے بھری پڑی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں موجود تمام بیرونی طاقتوں کو نکل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کے قریب موجود غیرملکی افواج مسلسل خطرے میں ہیں اور خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ غیرملکی افواج یہاں سے نکل جائیں کیونکہ آبنائے ہرمز کوئی بین الاقوامی علاقہ نہیں بلکہ یہ ایران اور عمان کا مشترکہ علاقہ ہے۔
.png)
2 hours ago
2






English (US) ·