ARTICLE AD BOX
آبنائے ہرمز کھولنے میں تکنیکی مشکلات حائل، اسلام آباد مذاکرات میں سمندری راستے کی کلیئرنس بڑا چیلنج بن گئی
شائع 11 اپريل 2026 10:06am
مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے بعد عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو ایک عجیب و غریب صورتحال کا سامنا ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی ہی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مقام بھول گیا ہے۔
امریکی حکام نے ’نیویارک ٹائمز‘ کو بتایا ہے کہ ایران خود اپنی بچھائی ہوئی بحری بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے اور اس کے پاس ان سرنگوں کو ہٹانے کے لیے ضروری تکنیکی صلاحیت کی بھی کمی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بحری راستے کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
یہ مسئلہ گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا جب ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ چھڑنے کے بعد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کام انتہائی افراتفری اور غیر منظم طریقے سے کیا گیا، جس کی وجہ سے اب تہران کے لیے یہ جاننا مشکل ہو گیا ہے کہ کون سی بارودی سرنگ کہاں موجود ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لہروں کے بہاؤ کی وجہ سے بہت سی بارودی سرنگیں اپنی جگہ سے ہٹ کر ادھر ادھر بہہ گئی ہیں، جس نے پورے علاقے کو بحری جہازوں کے لیے خطرناک بنا دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس تکنیکی مجبوری کا اشارہ دیتے ہوئے بدھ کے روز کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے دوبارہ کھولا جائے گا۔
امریکی حکام کے مطابق اس جملے کا مطلب دراصل اپنی ہی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں کے مسئلے کا اعتراف ہے۔
یہ معاملہ اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایرانی وفد کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات متوقع ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا انحصار اس آبی گزرگاہ کے فوری اور محفوظ طریقے سے کھلنے پر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگیں بچھانا تو آسان تھا لیکن انہیں ہٹانا ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ ایران کے پاس اس وقت ایسا جدید نظام موجود نہیں ہے جو سمندر کی تہہ میں چھپی ان سرنگوں کو تیزی سے صاف کر سکے۔
دوسری جانب امریکی حملوں میں ایرانی بحریہ کو نقصان پہنچنے کے باوجود ان کے پاس اب بھی سیکڑوں چھوٹی کشتیاں موجود ہیں جو خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایران نے صرف ایک تنگ راستہ کھلا رکھا ہے جہاں سے بھاری ٹول ٹیکس ادا کرنے والے جہاز گزر سکتے ہیں، لیکن مکمل بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سمندر کو ان پوشیدہ خطروں سے پاک نہیں کر دیا جاتا۔
.png)
1 hour ago
1





English (US) ·