ARTICLE AD BOX
اس نئے منصوبے کے تحت، جو ابھی آخری شکل اختیار کر رہا ہے، سمندر میں دو الگ الگ راستے کھلے رکھے جائیں گے۔
شائع 12 جولائ 2026 09:01am
دنیا بھر میں تیل کی سپلائی کے سب سے اہم سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز میں جاری تناؤ کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا اور بڑا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، eمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو سنبھالنے کے لیے دو الگ الگ راستے بنانے کی ایک اہم تجویز تیار کی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، اس سلسلے میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک بڑی ملاقات ہوئی ہے، جس میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیرِ خارجہ بدر بسیدی نے تفصیلی بات چیت کی ہے۔
اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کے مطابق سمندری راستے سے جہازوں کے محفوظ گزرنے کے طریقوں پر غور کیا۔
اس نئے منصوبے کے تحت، جو ابھی آخری شکل اختیار کر رہا ہے، سمندر میں دو الگ الگ راستے کھلے رکھے جائیں گے۔
عمان کی طرف سے دی گئی تجویز کے مطابق، جنوبی راستہ جو عمان کی سمندری حدود میں آتا ہے، وہاں سے تمام بحری جہاز جنگ سے پہلے کے حالات کی طرح بالکل آزادانہ طور پر آ جا سکیں گے۔
دوسری طرف، جو شمالی راستہ ایران کی سمندری حدود میں آتا ہے، وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو پہلے ایران سے باقاعدہ اجازت لینا ہوگی۔
تاہم، اس مجوزہ معاہدے کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ کسی بھی راستے سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس یا ٹول نہیں لگایا جائے گا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، عمان اور ایران نے بین الاقوامی قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے اس سمندری راستے پر جہاز رانی کا ایک مستقل معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اپنے تکنیکی اور سیاسی مذاکرات کا سلسلہ آگے بھی جاری رکھیں گے تاکہ خطے میں جاری جنگی ماحول کو کم کیا جا سکے اور تجارتی جہازوں کو بغیر کسی خوف کے گزرنے کا محفوظ راستہ مل سکے۔
.png)
4 hours ago
3





English (US) ·