ARTICLE AD BOX
اپ ڈیٹ 26 اپريل 2026 06:41pm
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی عمان کے دارالحکومت مسقط کا دورہ کرنے کے بعد ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عباس عراقی کچھ گھنٹوں بعد روس کے دارالحکومت ماسکو کے لیے روانہ ہوں گے۔
ایران کی سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر بیانات نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سے قبل ایرانی وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کی تھیں، جن میں خطے کی سیکیورٹی اور بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا، جس میں تقریباً پچاس منٹ تک دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانے پر بات چیت جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدے کے لیے ایک ابتدائی دستاویز پیش کی، تاہم جب دورہ منسوخ کیا گیا تو صرف دس منٹ کے اندر ایک نیا اور بہتر مسودہ سامنے آ گیا۔
امریکی صدر کے مطابق یہ کوئی پیچیدہ مذاکرات نہیں بلکہ ایک سادہ معاملہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر قیادت کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں، تاہم امریکا جس بھی قیادت کے ساتھ معاملات طے ہوں گے، اسی سے بات چیت کرے گا۔
.png)
1 hour ago
1





English (US) ·