Times of Pakistan

بنگلہ دیش کیخلاف سیریز سے متعلق پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان معین خان کا اہم بیان

11 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

انہوں نے کہا کہ قومی سلیکشن کمیٹی کو کھلاڑیوں کے انتخاب کے معاملے پر اپنے معیار کو سامنے لانا چاہیے

سابق ٹیسٹ کپتان  اور قومی سلیکشن کمیٹی کے سابق سربراہ معین خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کو آسان نہیں لینا ہوگا، ہیڈ کوچ سرفراز احمد پاکستان کرکٹ ٹیم کو بہتری کی جانب لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ٹیسٹ کپتان شان مسعود کو ذمہ داری کے لیے وقت ملنا چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ معین خان نے کہا کہ  جمعہ سے شروع ہونے والی دو ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کھیلنے کے لیے بنگلہ دیش میں موجود پاکستان کرکٹ ٹیم متوازن اور بہتر کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں،تاہم آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ  کے ان مقابلوں میں بنگلہ دیش کو ہوم کنڈیشنز پر زیادہ ایڈوانٹیج ہوگا،بنگلہ دیش نے ہمیشہ اپنی سرزمین پر بہتر کارکردگی دکھائی ہے،لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم بھی بہتر نتائج فراہم کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلیکشن کمیٹی کو کھلاڑیوں کے انتخاب کے معاملے پر اپنے معیار کو سامنے لانا چاہیے،پاکستان  کرکٹ ٹیم کے لیے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری ادا کرنے والے سابق قومی کپتان سرفراز احمد کو انٹرنیشنل کرکٹ کا کافی تجربہ ہے،سرفراز احمد کی کھلاڑیوں کے ساتھ ہم آہنگی بھی بہت اچھی ہے،کھلاڑی بھی سرفراز احمد کو بہت عزت دیتے اور ان کی بات غور سے سنتے ہیں، سرفراز احمد  کو ہیڈ کوچ کی ذمہ داری ملنا اچھا اور مثبت فیصلہ ہے،اس کے قومی کرکٹ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے، ٹیسٹ کپتان شان مسعود کی قیادت کا تسلسل ضروری ہے، وہ ایک سمجھدار کرکٹر اور  بہترین فیصلہ کرنے والے کپتان ہیں۔

دوسری جانب سابق ٹیسٹ اسپنر اور قومی سلیکشن کمیٹی کے سابق رکن توصیف احمد کا کہنا ہے کہ کرکٹ سلیکشن پالیسی کو عوام تک لانا چاہیے،بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان کا رخ کرنا ہوگا، ہر ٹیم حریف سائیڈ کے خلاف ہوم ورک کر کے آتی ہے،پاکستان کو میزبان ٹیم کے خلاف لیفٹ آرم اسپنر کھیلانا چاہیے،مستند بیٹر بابر اعظم کا دوبارہ فارم میں آجانا نہ صرف ان کے بلکہ پاکستان کے لیے خوش آئند ہے،باہر اعظم نے پی ایس ایل11 میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیالیکن بابر اعظم کو قومی ٹیم کا دوبارہ کپتان نہ بنایا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بابراعظم کی قیادت کے معاملہ کو لے کر  بہت باتیں ہوئیں،بابر اعظم کو پہلے بطور کھلاڑی کھیلنے دیں،ٹیم میں موجود مسائل کو سنبھالنا کپتان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

Read Entire Article