ARTICLE AD BOX
گرمی کے موسم میں رات کو ٹھنڈی ٹھنڈی آئس کریم کھانا اکثر لوگوں کو بہت پسند ہوتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے جسم کو ٹھنڈک ملے گی اور نیند اچھی آئے گی، لیکن رات گئے آئس کریم کھانے سے اگلی صبح اٹھتے ہی دماغ پر ایک عجیب دھند سی چھا جاتی ہے، جسے سائنسی زبان میں برین فوگ کہتے ہیں۔
اس حالت میں انسان صبح بیدار ہو کر سستی محسوس کرتا ہے، کسی کام پر دھیان نہیں لگا پاتا، چیزیں بھولنے لگتا ہے اور جسم میں طاقت محسوس نہیں ہوتی۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ رات کے وقت ہمارے ہاضمے کا سست ہونا اور خون میں شوگر کی مقدار کا اچانک بڑھ جانا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق آئس کریم میں چینی اور چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اسے بنانے میں بھاری ملائی اور فل فیٹ دودھ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جب ہم سوتے وقت اسے کھاتے ہیں تو خون میں شوگر کا لیول بہت تیزی سے اوپر جاتا ہے، جس کی وجہ سے لبلبہ بہت زیادہ انسولین پیدا کرتا ہے اور پھر شوگر اچانک نیچے گر جاتی ہے۔ یہ اتار چڑھاؤ رات کی گہری نیند کے چکر کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ رات کو جب ہم گہری نیند میں ہوتے ہیں تو ہمارا دماغ دن بھر کا کچرا صاف کرتا ہے، لیکن رات کو آئس کریم کھانے سے ہاضمے کا نظام رات بھر اوور ٹائم کام کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، جس سے دماغ کو آرام نہیں مل پاتا۔
دراصل معدے کو اس بھاری اور ٹھنڈی چیز کو پگھلانے کے لیے بہت زیادہ خون اور طاقت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس وجہ سے جو خون رات کو دماغ کو سکون دینے اور اس کی صفائی کے لیے استعمال ہونا تھا، وہ پیٹ کی طرف چلا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اگلی صبح سستی اور دماغی کمزوری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔
اس کے علاوہ جسم کی اندرونی گھڑی اور ہارمونز یعنی جسم کے کیمیکلز کا توازن بھی اس بھاری میٹھے سے بگڑ جاتا ہے۔ رات کے وقت ہمارا جسم ایک خاص کیمیکل بناتا ہے جسے میلاٹونین کہتے ہیں، یہ کیمیکل ہمیں پرسکون نیند لانے میں مدد کرتا ہے۔
لیکن جب ہم رات کو بہت زیادہ چینی والی آئس کریم کھا لیتے ہیں، تو جسم میں شوگر بڑھنے کی وجہ سے کورٹیسول نامی ہورمون نکلنا شروع ہو جاتا ہے، جو انسان کو بیدار اور چوکنا رکھتا ہے۔ یہ دونوں کیمیکلز آپس میں ٹکراتے ہیں، جس سے نیند بار بار ٹوٹتی ہے اور پیٹ کے اندر سوزش بڑھنے سے دماغی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین صحت کہتے ہیں کہ جب ہم رات گئے کھانا کھاتے ہیں یا ایسی بھاری چیزیں لیتے ہیں تو ہمارا جسم اس خوراک کو ہضم کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے نیند خراب ہوتی ہے اور طبیعت میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔
اس مسئلے سے بچنے کے لیے ماہرین آسان مشورے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ رات کو سونے سے کم از کم دو سے تین گھنٹے پہلے کچھ بھی کھانا پینا بند کر دیں اور رات کے وقت میٹھی چیزوں سے بالکل دور رہیں۔
اگر کسی کو رات کے وقت بھوک ستائے تو وہ آئس کریم کے بجائے ہلکی پھلکی پروٹین والی چیزیں کھا سکتا ہے، جیسے تھوڑے سے خشک میوے یا تھوڑی سی دہی، تاکہ پیٹ اور ہاضمے کو نقصان نہ پہنچے۔
دن بھر کے کھانے کا ایک وقت مقرر ہونا چاہیے تاکہ خون میں شوگر کا نظام درست طریقے سے کام کرے۔ ماہرین کے مطابق آئس کریم یا کوئی بھی میٹھا کھانے کا سب سے بہترین وقت دن کا حصہ یا شام کا ابتدائی وقت ہے، کیونکہ اس وقت انسان کا ہاضمہ اور جسم متحرک ہوتا ہے اور وہ اسے آسانی سے ہضم کر لیتا ہے۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ رات کو دیر سے میٹھا کھانے کا اثر صرف ایک صبح کے برین فوگ تک نہیں رہتا، بلکہ اگر یہ عادت روزانہ کی بن جائے تو اس سے یادداشت کمزور ہو سکتی ہے، چڑچڑاپن بڑھتا ہے اور انسان کا وزن بھی تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔
اگر صبح اٹھ کر تھکن ہو، دھیان نہ لگے اور میٹھا کھانے کی شدید طلب ہو تو سمجھ جائیں کہ آپ کی رات کی خوراک آپ کے دماغ پر اثر کر رہی ہے، جسے صرف وقت بدل کر ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔
.png)
4 hours ago
3




English (US) ·