Times of Pakistan

سندھ بجٹ: کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار مقرر، ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

وزیراعلیٰ سندھ نے مالی سال 27-2026 کے لیے 36 ارب روپے سے زائد خسارے کا بجٹ پیش کردیا۔

صوبہ سندھ کے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے 36 ارب روپے سے زائد خسارے کا بجٹ پیش کردیا گیا ہے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

بدھ کو سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہوا، بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تقریر کے آغاز پر اپوزیشن اور ایم کیو ایم اراکین کی جانب سے شور شرابہ اور نعرے لگائے گئے جب کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی بھی ایوان میں کھڑے ہو گئے۔

اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی نے کہا ون وے ٹریفک چل رہا ہے ، پری بجٹ نہ ہوا شہری سندھ کی نمائندگی سے مشاورتت بھی نہیں کی گئی، جمہوری روایات کی پاسداری نہیں کریں گے تو ایسے ہی احتجاج ہوگا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر سے مکالمہ کیا کہ آپ کے ارکان آپ کی تو بات ہی نہیں سن رہے آپ کی تصویریں آگئیں بیٹھ جائیں تاہم ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ سندھ کی بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسمبلی میں بینرز اٹھا کر احتجاج کیا اور ایوان سے باہر آگئے جب کہ اپوزیشن ارکان کے ہمراہ ایوان کے باہر آکربھی احتجاجی کتبے اٹھاکر احتجاج کیا، بینرز پر 18 سالوں کا حساب دو، 30 ہزار ارب روپے کا حساب دو، کرپشن نہیں تعلیم اورسرکاری بابو بجٹ نامظور کے نعرے درج تھے۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کا آئندہ مالی سال کا ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا۔ انہوں نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 35 کھرب 62 ارب اور آمدن کا اندازہ 35 کھرب 25 ارب روپے ہے، اس طرح آئندہ مالی سال 36 ارب 93 کروڑ روپے کا بجٹ خسارہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے، آئندہ مالی سال تعلیم پر 620 ارب اور صحت پر 393 ارب 16 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7،7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جب کہ کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ کردی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں 297 ارب روپے کی کمی کردی گئی، اب صرف 720 ارب 38 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے، اس کے باوجود کراچی، حیدراباد، ٹھٹھہ، سکھر، لاڑکانہ سمیت مختلف شہروں میں انفرااسٹرکچر اور توانائی کے شعبوں پر توجہ دی جائے گی، کسانوں اور ہاریوں کی فلاح و بہبود کے لیے زرعی شعبے پر 41 ارب 31 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے سندھ بھر میں کئی نئے منصوبوں کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ سندھ کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 385 ارب روپے ہے۔

Read Entire Article