ARTICLE AD BOX
2026 کے وسط تک موسمی حالات 'ایل نینو' کی طرف بڑھ سکتے ہیں اور اگر 'سپر ایل نینو' ہوا تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔
شائع 27 اپريل 2026 11:59am
دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہلے ہی واضح ہو رہے ہیں، اور اب ماہرین ایک اور بڑے موسمی رجحان ”سپر ایل نینو“ پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو 2026 میں عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ اس ممکنہ صورتِ حال نے سائنسدانوں اور موسمیاتی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف گرمی کی شدت بڑھا سکتا ہے بلکہ بارشوں کے نظام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پڑوسی ملک بھارت کے کئی شہر غیر معمولی طور پر جلد شروع ہونے والی شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے پنجاب، ہریانہ، دہلی، راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، بہار اور اڈیشہ میں ہیٹ ویو کی وارننگ جاری کی ہے۔
دہلی میں درجہ حرارت 42.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، جبکہ رات کے اوقات میں بھی گرمی معمول سے زیادہ برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق جون تک گرمی کی شدت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
اسی پس منظر میں عالمی سطح پر سائنسدان بحرالکاہل میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جو ایل نینو کے ایک طاقتور مرحلے، یعنی ”سپر ایل نینو“ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ مختلف موسمیاتی ماڈلز کے مطابق یہ رجحان گزشتہ ایک صدی کے طاقتور ترین واقعات میں شامل ہو سکتا ہے، اور 2026 کے دوران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ایل نینو دراصل ایک قدرتی موسمی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس دوران سمندر کے پانی کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور ہواؤں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے موسم پر پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کہیں شدید بارشیں ہوتی ہیں تو کہیں خشک سالی اور کہیں شدید گرمی میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کے وسط تک موسمی حالات ایل نینو کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اگر یہ ”سپر ایل نینو“ کی شکل اختیار کر گیا تو اس کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔
سپر ایل نینو کی صورت میں گرمی کی لہر طویل اور زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر رات کے وقت درجہ حرارت میں اضافہ لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ اس کے علاوہ مون سون کی بارشیں کم ہو سکتی ہیں، جس سے خشک سالی اور زرعی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پہلے ہی سال کے ابتدائی مہینوں میں بارشیں معمول سے 60 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کے باعث پانی کی قلت اور بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی پیشگوئیوں میں کچھ غیر یقینی صورتِ حال موجود ہے، لیکن اپریل کے بعد اندازے زیادہ واضح ہو جائیں گے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ اگر ”سپر ایل نینو“ واقع ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کے موسم، معیشت اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات محسوس کیے جائیں گے۔
.png)
4 hours ago
2





English (US) ·